سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 402

402 جماعت میں جراحی کا عمل پس دو قسم کے لوگ ہیں جن کو بالآخر جماعت سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔ایک وہ جو شریر ہیں جو فساد رکھتے ہیں اور فساد کرتے ہیں وہ لوگ جن کا حقیقت میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کی جماعت یعنی جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ بیرونی شریر ہیں جو جماعت میں گھس کر : فتنہ پردازیوں سے کام لیتے ہیں اور محض ایک لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ایسے لوگوں کو نکالنے کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ جماعت، جس کو وہ تکلیف پہنچارہے ہوتے ہیں ان کی راحت کے خیال سے دل کو راحت پہنچتی ہے اس لئے فرضی طور پر ایک بات اس رنگ میں نہیں کہنی چاہئے کہ گویا بہت اچھی بات کہی جارہی ہے خواہ حقیقت سے اس کا تعلق نہ ہو۔پس میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ بات کرتے وقت احتیاط کی جائے کہ حقیقت کے دائرے سے وہ بات باہر نہ نکلے۔پس ہرا اپریشن کا دکھ نہیں پہنچتا۔بعض جراحی کے عمل ایسے ہیں جن سے حقیقتاً راحت محسوس ہوتی ہے اور اس راحت کو محسوس کرنے میں مجھے بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ فتنہ پرداز اس جرم کی حد کو پہنچ چکا ہے کہ جس کے بعد یہ ہمارا جزو بدن نہیں رہا بلکہ غیر ہے جو اندر داخل ہو کر ان کو جو جزو بدن ہیں تکلیف پہنچا رہا ہے۔پس جب ایک شیشے کا ٹکڑا پاؤں میں سے کھینچ کر باہر نکالا جائے، جب کہ ایک کانٹا نکالا جائے ، جب کوئی دبی ، چھپی ہوئی گولی اندر سے نکال کر باہر کی جائے تو کبھی تکلیف نہیں پہنچتی۔یہ جھوٹ ہوگا اگر آپ یہ کہیں کہ ہمارے بدن سے ایک چیز نکلی اور ہمیں بڑا دکھ پہنچا۔راحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس سارے ماؤف حصے کو چین آجاتا ہے جہاں اس بیرونی چیز نے ایک مصیبت بپا کر رکھی تھی۔دکھ ان کا ہوتا ہے جو بعض دفعہ غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔بنیادی طور پر وہ جماعت احمدیہ کا ہی جزو ر ہتے ہیں۔جماعت سے نکالنا ان کو بے قرار کر دیتا ہے، ان کی زندگیاں ان پر اجیرن ہو جاتی ہیں وہ جزو بدن ہی ہیں۔لیکن بعض مجبوریوں کے پیش نظر بعض ایسی غلطیوں کے پیش نظر جن کو نظام جماعت نظر انداز نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوتا ہے، انہیں جب نکالنا پڑتا ہے یا انہیں جب سزا دینی پڑتی ہے تو حقیقتا ایسی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے اپنے کسی بدن کے حصے کو انسان سزا دینے پر مجبور ہو جائے۔ضرورت مندوں کو سنبھالیں اور ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور اسے بے یارومددگار نہیں چھوڑتا۔تکلیف دور کرنا ایک الگ بات ہے۔بے یار و مددگار نہ چھوڑنا ایک اور بات ہے۔یعنی کئی لوگ آپ کو اپنی سوسائٹی میں ایسے دکھائی دیں گے جن کے پاس کوئی کام نہیں ہے، جو کئی قسم کی روز مرہ کی زندگی