سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 378

378 ایسا مقام جو بالا ہو اور نظر کے نمایاں اور ممتاز ہو جائے اور قابل رشک ہو۔بہت پاکیزہ ہو۔اس مقام، اس مرتبے، اس شان کو طوبی کہا جاتا ہے۔وَحُسْنُ مَابِ اور بہت ہی خوب صورت دکش جگہ لوٹنے کی ہے۔پہلی بات ان آیات میں یہ قابل غور ہے کہ ان دونوں آیات کا تعلق کیا ہے۔جہاں تَطْمَين القُلُوبُ والی بات فرمائی گئی۔وہاں اس کے سوا کوئی جزا بیان نہیں ہوئی۔جہاں عَمِلُوا الصّلِحُتِ کی بات ہوئی وہاں ایک جزا بیان ہوئی ہے۔جو لگتا ہے کہ بہت ہی شان دار جزاء ہے تو ان دونوں کا آپس میں تعلق کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمُ کی جو آیت ہے۔دوسری آیت اس کے بدل کی حیثیت رکھتی ہے یعنی آمَنُوا دونوں میں مشترک ہے اور ذکر اللہ اور عمل صالح یہ دوا لگ الگ چیزیں اُمَنُوا کے تعلق سے بیان ہوئیں ہیں۔اس میں بہت سے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ایک آپ کی توجہ کے لئے میں خصوصیت سے یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ذکر کا ایک جھوٹا تصور جو مسلمان صوفیاء میں رواج پا گیا۔اس کی یہ آیت نفی کرتی ہے۔بعض صوفیاء یہ مجھتے ہیں یا سمجھتے رہے مختلف زمانوں میں کہ اللہ کے ذکر کے بعد انسان دوسرے اعمال سے بے نیاز ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بعض صوفی فرقوں میں یہ تصور بھی جگہ پا گیا کہ ذکر اللہ کرو اور نمازوں سے مستثنی ، ذکر اللہ کرو اور بنی نوع انسان کی خدمت سے مستی ، ذکر اللہ کر ومختلف گوشوں میں چلے جاؤ اور دنیا سے تعلق کاٹ لو یہی ذکر اللہ کا مفہوم ہے۔قرآن کریم نے ان دو آیتوں کو اوپر نیچے رکھ کر ایک خاص ترتیب سے اس مضمون کی کلیپ نفی فرما دی۔فرمایا ہم جس ذکر اللہ کی بات کر رہے ہیں کہ وہ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ عطا کرتا ہے وہی ذکر اعمالِ صالحہ میں ڈھلتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ذکر سچا ہو اور اعمال صالحہ نہ رہیں یا اعمالِ صالحہ سے انسان مستغنی ہو سکے تو تکرار کے ساتھ فرمایا الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بذِكْرِ الله اور الذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ یہ عملاً ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اور ذکر الہی سے ایک مزید بات یہ بیان فرما دی۔اعمالِ صالحہ کا تو ہر جگہ ذکر ملتا ہے قرآن کریم میں، ایمان کے بعد ذکر کے بعد جب اعمال صالحہ کا ذکر ملا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ذکر اعمالِ صالحہ کو ایک نیا حسن عطا کر دیتے ہیں ذکر کے بغیر جو اعمال صالحہ ہیں ان میں وہ جان نہیں پڑتی وہ غیر معمولی حسن پیدا نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں خو بی لَهُمُ انہیں کہا جا سکے۔تو یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تم ایمان لاؤ اور اللہ کا ذکر کرو پھر تمہیں طمانیت نصیب ہوگی اور طمانیت کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر جاؤ۔طمانیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دنیا کی جدوجہد سے آزاد ہو جاؤ گے جہاد سے مستغنی ہو جاؤ گے۔اس کے با وجود تمہیں ضرور جہاد کرنا ہو گا اس کے باوجود تمہیں دنیا کے تمام مشاغل میں حصہ لینا ہو گا لیکن ہر دنیا کے تعلق میں ذکر الہی دلوں پر غالب رہے گا اور جب ذکر الہی غالب رہے گا تو تمہارے اعمالِ صالحہ کو ایک نیا حسن عطا