سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 377
377 میں اور جلسوں میں عورتوں کو سکھائیں کہ انہوں نے کیا حقوق ادا کرنے ہیں اور اس طرح ایک بہترین معاشرہ پیدا ہو جائے گا۔حقوق کی طلب ایک نفسیاتی رجحان پیدا کر دیتی ہے اس سے جھگڑے بھی پیدا ہوتے ہیں اس سے سرکشیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بعض دفعہ انسان اپنے جائز حقوق سے زیادہ مانگنے لگ جاتا ہے۔تا کہ گفت وشنید میں کچھ تو ہاتھ آئے اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے مطالبوں میں لیکن جہاں حسن و احسان کا اظہار کرتے ہوئے ادا ئیگی کی باتیں کی جائیں۔مالک خود یہ کہے کہ میں تمہیں یہ بھی دینا چاہتا ہوں، یہ بھی دینا چاہتا ہوں، یہ بھی دینا چاہتا ہوں۔اس کے نتیجے میں کوئی جھوٹ شامل نہیں ہوسکتا۔وہ اتنا ہی دینے کی باتیں کرے گا جتنا دل آمادہ ہے اور مد مقابل پھر یہ نہیں سمجھتا کہ میر احق کم دیا گیا ہے۔وہ احسان کے نیچے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں اتنا نہ کریں مجھے اتنا ہی کافی ہے۔اور یہ روز مرہ کی زندگی میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔وہ مالک یا کام لینے والے جو حسن ہوتے ہیں ان کے تابع جن لوگوں کو کیا گیا ہے وہ ہمیشہ کوشش کر کے ان کے حق سے زیادہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو ان کو دیا جاتا ہے وہ سمجھتے ہیں یہ بہت زیادہ ہے یہ احسان ہے۔تو یہ بہترین رشتہ جو ایک نظام میں ایسا حسن پیدا کر سکتا ہے جو دنیاوی نظام میں متصور ہی نہیں ہو سکتا، سوچا ہی نہیں جاسکتا۔یہ اسلام کے اندر ممکن ہے کیونکہ اسلامی تعلیم اس کی گنجائش رکھتی ہے۔عدل کے لحاظ سے بھی پوری ہے اور احسان کے لحاظ سے بھی پوری ہے اور ایتاء ذی القربی کے لحاظ سے بھی پوری اور کامل ہے۔تو یہ بھی مجھے خیال آیا کہ اس حوالے سے بھی یعنی لجنہ اماء اللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کے مشترکہ حوالے سے آئندہ ایسے بھی مضامین زیر نظر رہنے چاہئیں۔جن میں عورتیں مردوں کے حقوق کی باتیں کریں اور مرد عورتوں کے حقوق کی۔ذکر الہی ، اطمینان قلب کا ذریعہ ہوتا ہے۔۔۔آیات کریمہ جو میں نے تلاوت کی ہیں۔وہ سورۃ الرعد سے آیت 29 اور 30 لی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَبِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللهِ " وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر پر طمانیت پا گئے۔یعنی تسکین مل گئی۔آلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَبِنُ القُلُوبُ خبر دار سنو۔اللہ ہی کے ذکر سے دل تسلی پایا کرتے ہیں۔الَّذِینَ أمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلحت وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔طوبی لھم ان کے لئے بہت ہی قابلِ رشک مقام ہے ایسا مقام جو ممتاز کر دیتا ہے ان کو دوسروں سے خوبی جن معنوں میں جس طرح بولا جاتا ہے اس سے بعض دفعہ یہ شبہ پڑتا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ خوشخبری لیکن خوشخبری کے مقام پر بولا جاتا ہے۔لیکن لفظ کا مطلب خوشخبری نہیں۔طاب کہتے ہیں ایک چیز نتھر کر اوپر صاف ستھری ہو جائے۔تو