سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 312
312 کوئی پروانہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے؟ پس ایک وقتی انحراف کے بعد دوسرے مضمون کی طرف جانا پڑا۔سال کا اکٹھا پروگرام دینے کے بجائے ٹکڑوں ٹکڑوں میں پروگرام دیں اب اصل مضمون کی طرف پھر واپس آتا ہوں۔جب تربیت کے متعلق یہ معلوم کر لیا کہ کس مجلس یا کس جماعت میں تربیت کی کیا کیا خرابی ہے؟ تو اکٹھا سارے سال کا پروگرام دینا بے فائدہ ہوتا ہے۔اگر آپ سارے سال کا پروگرام ساری جماعتوں کو اکٹھا بھیج دیں گے تو وہاں کے کام کرنے والوں کی اکثر صورتوں میں صلاحیت ہی نہیں ہوگی کہ وہ کام کو اجتماعی طور پر سمجھ سکیں اور خوداس کوٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ کر اتنا کام کریں جتنا اُن کی طاقت میں ہے۔وہ گھبرا جاتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے کام ہم نے کرنے ہیں اتنے آدمیوں کو نمازی بنانا ہے، اتنوں کی زبان درست کرنی ہے، اتنوں کے تعلقات ٹھیک کرنے ہیں، اتنے آزاد منش لوگوں کی آوارہ گردیاں ٹھیک کرنی ہے، اتنوں پر یہ نظر رکھنی ہے، اتنوں پر وہ نظر رکھنی ہے، اتنے بڑے کام ، ہم نے اور بھی تو کام کرنے ہیں۔یہ رد عمل ہوتا ہے جو طبعی نفسیاتی ردعمل ہے جو ہر انسان میں پیدا ہوتا ہے۔ان کو پتا نہیں کہ کام کیسے کرنا ہے؟ اس لئے وہ سیکرٹری جس نے ایک ٹیم بنائی ہے، جس نے سلیقے کے ساتھ کام کا تجزیہ کیا ہے؟ اس کا کام یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے کام معین طور پر مختلف مجالس کے سپر د کرے۔ہر مجلس کے سپر دایسا کام کرے کہ جو مجلس والے جانتے ہوں کہ ہمیں دیکھ کر یہ بتا رہا ہے۔ان کو محسوس ہو کہ ہم نظر آ رہے ہیں اس وقت۔اُن کو پتا ہو کہ فلاں فلاں کمزوری ہمارے اندر پائی جاتی ہے اور ہمیں جو کہا جارہا ہے کہ اتنے آدمیوں میں سے اتنوں میں یہ کمزوریاں ہیں اس کو دور کرو تو یہ ایک معین پیغام ہے۔نمازی بنانے کے ساتھ سلیقہ بھی سکھائیں پھر یہ نہیں کہنا کہ بے نمازیوں کو نمازی بناؤ بلکہ اُس کا سلیقہ بھی سکھانا ہے۔یہ بھی بتانا ہے کہ کس طرح یہ کام کرنا ہے اور پھر معین وقت دینا ہے کہ ایک مہینے میں تم محنت کر کے ہمیں اپنے نتیجے سے مطلع کرو۔جیسے مثال دے رہا تھا کہ ایک مجلس میں سو میں سے 70 نمازی ہیں اگر۔تو اُن سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک مہینہ محنت کرو اور 70 کو 75 بناؤ ،80 بناؤ، 90 بناؤ جتنی توفیق ہے لیکن معین طور پر پانچ یا چھ یا سات یا آٹھ یا دس ہیں آدمیوں کو پیش نظر رکھ لو۔اور اُن کو مختلف انصار یا مختلف خدام یا مختلف ممبرات لجنہ کے سپر د کرو اور اس سپردگی کی ہمیں اطلاع کرو۔ہمیں بتاؤ کہ کس بیمار کو کس صحت مند کے سپر د کیا گیا ہے؟، کیا ہدایتیں دی گئی ہیں، کس طرح کام کر رہے ہیں، کس طرح ان کے اندر نیکی کے بیج ڈال رہے ہیں؟ یا اُن کے اندر ولولہ پیدا کر رہے ہیں۔جب یہ بات ہوگی تو فورا یہ بھی خیال آئے گا۔جب ہم میدان کارزار میں کسی سپاہی کو بھیجتے ہیں تو ہتھیار بھی تو دینے چاہئیں۔پھر سیکرٹری کو یہ بھی خیال آئے گا تربیت کے متعلق خصوصا نماز کی اہمیت سے متعلق