سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 313

313 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے ایسے اعلیٰ اقتباسات ہیں۔اُن میں سے ایک دو چن کر میں کیوں نہ بھیج دوں۔ایسی احادیث نبویہ ہیں جن سے نماز کی غیر معمولی اہمیت انسان پر روشن ہوتی ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے زیادہ دلوں میں کوئی بات تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی یعنی قرآن کے بعد وہ قرآن کی ہی باتیں ہوا کرتی ہیں تو ان معنوں میں کہہ رہا ہوں کہ قرآن کا پیغام جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچاتے ہیں تو اُس سے زیادہ اثر کسی اور چیز کا نہیں ہوتا۔پھر وہ ایسی حدیثوں کو بھی تلاش کریں گے جن میں دلوں میں انقلاب بر پا کرنے کی طاقتیں موجود ہیں۔وہ سوچیں گے کہ یہ یہ حدیثیں لکھ کے دیں لیکن اکٹھی کتابیں نہ بھیجیں، لمبی مضمون نگاریاں کام نہیں دیا کرتیں۔وہ لوگ جو تربیت کے محتاج ہیں لمبی تقریریں پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوا کرتا۔اس لئے وہ ایک دو چھوٹی چھوٹی باتیں بھجوائیں ، چھپوا کر یا کمپیوٹر میں ڈال کر کا پیاں بنوالیں اور اپنے مقابل کے سیکرٹری تربیت کو یہ سمجھائیں کہ معین طور پر ایسی ٹیم تیار کرو جس کے سپر د ایک ایک آدمی ہو یا کسی میں زیادہ طاقت ہے تو دود و آدمی ہوں۔آئندہ مہینہ وہ جومحنت کریں اُن میں یہ یہ فصیحتیں کریں انہیں اس طرح سمجھانے کی کوشش کریں اور پھر معین نتیجے سے مطلع کریں۔فلاں فلاں شخص نے اللہ کے فضل سے نماز شروع کر دی ہے، فلاں فلاں شخص بدگمانی کرتا تھا اُس نے وعدہ کیا ہے کوشش شروع کر دی ہے، فلاں شخص میں یہ کمزوریاں تھیں وہ ان سے باز آ گیا ہے۔فلاں میں رجحان تھا کہ گندی مجالس میں جائے ، شراب کی مجلسوں میں بیٹھے ، ان سے بداثر کو قبول کرے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن مجالس سے اس نے اجتناب شروع کر دیا ہے۔یہ رپورٹیں ہیں جو حقیقی ہیں جو کوئی معنی رکھتی ہیں۔طاقت کے مطابق کسی کے سپر داتنا کام کریں جتنا وہ سمیٹ سکتا ہو اور ہر مہینے کا کام سپرد کرتے وقت اس آیت کریمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور یہی دعا ہمیں سکھاتا ہے کہ اے خدا! ہم سے ایسا ہی سلوک فرما۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقرہ: 287) کا اعلان ہے کہ ہرگز خدا کسی جان پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اور پھر دعا یہ سکھا دی رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (البقرہ: 287) اے خدا تو ایسے ہی کیا کرتا ہے مگر پھر بھی ہماری دوبارہ یہ التجا ہے کہ ہم پر ایسے بوجھ نہ ڈالناجو ہم اٹھا نہ سکیں ، جو ہماری کمر توڑ دیں۔تو یہ بنیادی نکات ہیں تربیت کے ان دو آیات میں عظیم الشان قوموں کی اصلاح کے راز بیان فرما دیئے گئے ہیں اور بڑے کاموں کو آسان کرنے کے طریق سکھا دیئے گئے ہیں۔پس اُتنا اتنا کام ایک وقت میں کسی مجلس کے کسی عہدیدار کے سپر د کریں جتنا وہ سمیٹ سکتا ہو، سنبھال سکتا ہو، جس کا وہ بوجھ اٹھا سکتا ہو، جس بوجھ کو اٹھا کروہ منزل تک پہنچا سکتا ہو اور پھر گرانی رکھیں اس وقت تک اگلے کام