سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 191
191 کے زور پر کام چل رہے ہیں وہاں نفسانیت کا ایک کیڑا داخل ہو جاتا ہے جو نیک اعمال کو کھانے لگتا ہے اور وہیں کاموں میں خرابی کی بنیاد میں پڑ جاتی ہیں، خرابی کا آغاز شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ لوگ جو خدا ہی پر تو کل رکھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ سارے کام خدا کے فضلوں سے چلیں گے وہ ہمیشہ دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے کام بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں اور بہتر ہونے کے نتیجے میں ان کو تکبر کی ٹھوکر نہیں لگتی بلکہ انکسار بڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ پر توکل بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھتی ہے۔اس کے لئے دل میں تشکر کے زیادہ جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس کے رد عمل کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ جو بھی میرا شکر گزار بندہ ہو گا اس کو میں مزید دوں گا۔پس سب سے اہم نکتہ یہی ہے جس کو آپ یاد رکھیں، پلے باندھ لیں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی بھلا ئیں نہیں کہ انتظام خواہ کتنے ہی بڑے اور وسیع تر ہوتے چلے جائیں خدا کے فضل سے چلیں گے اور جولوگ خدا سے تعلق رکھتے ہیں ان کے کام آسان ہو جایا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے وہ کام بنادیتا ہے اس لئے اپنا تعلق بڑھائیں اور پھر دعاؤں پر زور دیں اور یا درکھیں کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے سب سے پہلا خیال دعا کا ہونا چاہئے اور سب سے پہلا سہارا خدا کا ڈھونڈنا چاہئے یہ عادت زندگی بھر آپ کے کام آئے گی اور ہمیشہ آپ کے سارے کام آسان کرتی چلی جائے گی۔اللہ سے تقویٰ بڑھانا ہو تو تقویٰ کا معیار بھی بڑھانا چاہئے دوسرا پہلو تقویٰ کا ہے جس کا اسی سے تعلق ہے۔اللہ سے تعلق بڑھانا ہو تو تقویٰ کا معیار بھی بڑھانا چاہئے اور اس پر میں بہت دفعہ گفتگو کر چکا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا وسیع ہے بلکہ عملاً لا متناہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح خدا کی ذات لامتناہی ہے اس طرح تقویٰ کا مضمون بھی لامتناہی ہے کیونکہ اس کا خدا کی ذات سے گہرا تعلق ہے۔تقویٰ کا تمام تر انحصار اللہ تعالیٰ پر ہے اس لئے متقی کے بلند مراتب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا مضمون بھی پھیلتا چلا جاتا ہے اور وسعت اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی کوئی حد نہیں آتی۔اس پہلو سے خواہ لاکھ خطبات بھی دیئے جائیں یہ مضمون اپنی ذات میں ختم ہونے والا مضمون نہیں۔عہدیداران واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کی دعا کرتے رہیں آج میں اسی پہلو سے امراء کو اور دیگر عہدیداران کو ، صدران مجالس ہوں یا دیگر عہدیداران ہوں، ان کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس دعا کو جس کی طرف میں پہلے بھی متوجہ کر چکا ہوں اس کو خصوصیت کے ساتھ اپنا لازمہ بنالیں۔اس دعا کے ساتھ چمٹ جائیں اور اس دعا کو اپنے ساتھ چمٹا لیں اور وہ یہ ہے کہ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کہ اے خدا! ہمیں متقیوں کا امام بنا۔یہ دعا کرتے ہوئے جب وہ اس پر