سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 139

139 رکھتا ہے اور بہت ہی زیادہ حسن و احسان کے ساتھ جذ بہ تشکر کو قبول فرماتا ہے۔پس جماعت احمد یہ اگر شکر گزار بنے جیسا کے شکر گزار ہے اور یہ سال تو ہے ہی خدا تعالیٰ کے فضلوں پر اس کے حسن و احسان پر اس کی حمد و ثناء کے گیت گانے کا سال۔مگر یہ سال کہنا بھی غلط ہے کہ ہماری تو ساری زندگیاں خدا کے فضلوں کے گیت گاتی ہوئی گزر جائیں تو حق شکر ادا نہیں ہوسکتا مگر خصوصیت کے ساتھ اس بدلتے ہوئے دور کے ابتدائی آثار کو جذ بہ تشکر کے ساتھ قبول کریں اور خدا سے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان آثار کے پیچھے وہ رحمتوں کی بارش لے آئے یہ جن کی ابتدائی نشانیاں معلوم ہوتی ہیں۔یہ جذ بہ بھی ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سیکھا ہے۔آپ کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب بعض دفعہ لمبے انقطاع کے بعد بادل گھر کے آتے تھے اور بارش کا پہلا قطرہ گرتا تھا تو حضور اپنے رب کی محبت اور پیار میں جذبہ تشکر کے طور پر زبان باہر نکال کر اس قطرہ کو اپنی زبان پر لیا کرتے تھے اور حمد وثنا کے گیت گایا کرتے تھے خدا کی اس رحمت پر۔تو بعید نہیں کہ اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور آپ کے عشق میں آپ بھی اسی طرح اس احسان کو جو بظاہر احسان بھی نہیں احسان سمجھتے ہوئے اس نیکی کے پہلے قدم کو شکر کے ساتھ قبول کریں گے اور اپنی زبان خدا کے حضور نکال کر اس کی رحمت کے قطرے کے طور پر اس کے حضور پیش کریں گے کہ اے خدا! یہ رحمت کا قطرہ ہماری زبان پر گرے اس لئے کہ پھر اس کے بعد کثرت سے بارش برسنے لگے۔تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جذبہ کو خدا تعالیٰ قبول فرمائے گا۔اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے میری توجہ آج رات ایک رؤیا کے ذریعے مبذول کروائی گئی۔اس رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے یہ دکھایا کہ جماعت احمدیہ کو دراصل خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنا چاہئے اور التجائیں کرنا چاہئے اور نتیجے کے لحاظ سے اپنی دعاؤں پر ہی تو کل کرنا چاہئے۔شاید اس کا پس منظر یہ ہو کہ کل مجھے بعض ایسی اطلاعیں ملیں کہ جن کے نتیجے میں معلوم ہوتا تھا کہ ہماری دنیا کی بعض جماعتوں نے حکومت پاکستان پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لئے غیر معمولی کارروائیاں کی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں سمجھایا کہ دنیا کی کاروائیاں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں تم دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم رکھو اور اسے بڑھاؤ اور اسے مضبوط کرو۔تو خدا تعالیٰ یقیناً اپنے فضل اور رحم کے ساتھ تمہارے حالات کو تبدیل فرمادے گا اور بے انتہار حمتیں نازل فرمائے گا۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 682-686)