سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 137

137 کے ساتھ اتنی چھوٹی ہو چکی ہے کے ربوہ کے باشندوں کے لئے بھی پوری نہیں ہوتی اور وہاں اس اجتماع کا سما جانا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہتری کی طرف چھوٹا ہی سہی کچھ قدم ضرور ہے۔اسی طرح انصار اللہ کے اجتماع کو بھی بڑے لمبے عرصے کے بعد اجازت دی گئی ہے۔جہاں تک ہمارا تو کل ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے اور جہاں تک ان مظالم کے خلاف فریاد ہے وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے حضور میں ہے اور اگر چہ یہ ایک بہت معمولی سا فرق ہے ایسا فرق نہیں جس کے نتیجے میں دل بے ساختہ ممنون احسان ہونے لگیں۔مگر ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے ، ادنی سے ادنی احسان کو بھی جذ بہ شکر کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔اگر چہ یہ احسان ابھی اتنا معمولی ہے کہ عدل کی حدود بھی پوری نہیں کرتا ہے اس لئے صحیح معنوں میں لغوی اعتبار سے اس کو احسان کہنا درست نہیں ہے لیکن وہ جگہیں یا وہ ممالک جہاں سے عدل اٹھ چکا ہو وہاں عدل کا آغاز بھی ایک رنگ میں احسان کا آغاز ہوا کرتا ہے۔پس اگر چہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ حکومت پنجاب کا یہ فعل ابھی عدل کے تقاضے پورے کرنے سے بھی بہت پیچھے ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں جو حسن و احسان کی تعلیم دی گئی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اپنے غلاموں کی تربیت فرمائی ہے ہمیں اس چھوٹے سے احسان کو بھی نظر تشکر سے دیکھنا چاہئے۔اگر چہ یہ ممکن ہی نہیں بلکہ غالب گمان ہے اس جذبہ تشکر کی کوئی قدر نہیں کی جائے گی۔اگر چہ حالات یہی بتاتے ہیں کہ اس چھوٹے سے نیک قدم کے بعد یہ خطرہ ہے کہ پھر اس قدم کو واپس کھینچنے کے لئے ایک مہم شروع کی جائے گی اور وہ جماعت احمدیہ کے دشمن جو حکومت کو ڈرا دھمکا کر اپنے خاص ہتھکنڈوں کے ذریعے جماعت احمدیہ سے عدل کا سلوک کرنے سے باز رکھتے ہیں وہ اس معمولی سے اظہار عدل کے بعد ایسی مہم شروع کریں گے جس کے نتیجے میں یہ خطرہ موجود ہے کہ حکومت ان سے مرعوب ہو جائے۔لیکن امتثال امر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کہ جو شخص بندوں کا ممنون نہیں ہوتا وہ میرا بھی ممنون نہیں ہوتا اس لئے جماعت احمدیہ کو اس پر بھی خدا کے شکر کے علاوہ اس حکومت کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے عدل کی طرف کچھ معمولی سی حرکت کی ہے۔اس شکر کے نتیجے میں ان سے تو ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں، کسی احسان کی توقع نہیں لیکن چونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اگر میرے شکر گزار بندے بنو گے تو میں تمہیں اسکے نتیجے میں بہت دوں گا۔لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : 8) کا وعدہ اور لَأَزِيدَنَّكُھ میں بڑی شدت کے ساتھ ایک قوت کا اظہار پایا جاتا ہے۔لَأَزِيدَنَّكُمْ میں ہوں جو بڑھانے والا ہوں اور میں یقیناً لازماً تمہیں بہت بڑھ چڑھ کر دوں گا اگر تم میرے شکر گزار بندے بنو گے۔