سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 117
117 چاہئے۔اگر کوئی امیر جماعت ہے اور اُس سے ہر انسان کو توقع ہے کہ یہ کرے اور وہ کرے اور کسی توقع کو اُس سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو واقفین زندگی کے لئے بہت ضروری ہے کہ اُن کو یہ خاص طور پر سمجھایا جائے کہ اُس ٹھوکر کے نتیجے میں تمہیں ہلاک نہیں ہونا چاہئے۔یہ بھی اسی قسم کے زخم والی بات ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی در اصل ٹھو کر تو کھاتا ہے کوئی عہدیدار اور لحد میں اتر جاتا ہے دیکھنے والا۔وہ تو ٹھو کر کھا کر پھر بھی اپنے دین کی حفاظت کر لیتا ہے اور اپنی غلطی سے انسان استغفار تو کرتا ہے لیکن ہلاک نہیں ہو جایا کرتا اکثر سوائے اس کے کہ بعض خاص غلطیاں ایسی ہوں لیکن جن کا مزاج ٹھو کر کھانے والا ہے وہ اُن غلطیوں کو دیکھ کر بعض دفعہ ہلاک ہی ہو جایا کرتے ہیں، دین سے متنفر ہو جایا کرتے ہیں اور پھر جراثیم پھیلانے والے بن جاتے ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر جہاں دوستوں میں تذکرے ہوئے وہاں کہہ دیا جی فلاں صاحب نے تو یہ کیا تھا ، فلاں صاحب نے یہ کیا تھا۔ساری قوم کی ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں۔تو بچوں کو پہلے تو اس بلا سے محفوظ رکھیں پھر جب بڑی عمر کے ہوں تو اُن کو سمجھائیں کہ اصل تو محبت خدا اور اُس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے خدا کی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اُس کا ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول کے دوستوں کے ایمانوں کو ، اپنے بچوں ، اپنی اولادوں کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کر دیں۔اپنا زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اُس کے اندمال کے جو ذرائع با قاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں اُس کو اختیار کریں لیکن لوگوں میں ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کریں۔آج بھی ایسی باتیں ہو رہی ہیں جماعت میں اور ایسے واقعات میری نظر میں آتے رہتے ہیں۔ایک شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس نے بعض مخلصین کے سامنے وہ باتیں بیان کیں اور باتیں سچی تھیں اور یہ سوچا نہیں کہ ان مخلصین کے ایمان کو کتنا بڑا اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔بعض واقفین زندگی نے بھی ایسی حرکتیں کیں اُن کو شکوہ ہوا انتظامیہ سے تبشیر سے، کسی سے اور نو احمدی غیر ملکوں کے مخلصین بیچارے ساری عمر بڑے اخلاص سے جماعت سے تعلق رکھتے تھے اُن کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر یہ بتانے کے لئے کہ دیکھیں جی ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے وہ قصے بیان کرنے شروع کئے اور خود تو اُسی طرح بیچ کے واپس چلے گئے اپنے ملک میں اور پیچھے کئی زخمی روحیں پیچھے چھوڑ گئے۔اُن کا گناہ کس کے سر پہ ہو گا یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ منتظمہ کی غلطی بھی تھی کہ نہیں اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا غلطی منتظمہ کی نہیں تھی ، بدظنی پر سارا سلسلہ شروع ہوا۔لیکن اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے دوسروں کے ایمان ضائع کرے۔پس سچا وفادار وہ ہوا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی جماعت پر نظر رکھے اور اُس کی صحت پر نظر رکھے۔پیار کا وہی ثبوت سچا ہے جو حضرت سلیمان نے تجویز کیا تھا اور اس سے زیادہ بہتر قابل اعتماد اور کوئی بات نہیں۔آپ نے سنا ہے، بارہا مجھ سے بھی سنا ہے، پہلے بھی سنتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان کی