سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 116
116 ماں باپ کا مال ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ پیسے کیا واپس کرتے ہیں۔وہ وقت ہے تربیت کرنے کا۔اُس وقت اُن کو کہنا چاہئے کہ ایک دھیلہ ایک دمڑی بھی ہو جب سودے کے طور پر منگوائی جائے تو وہ واپس کرنی چاہئے۔پھر چاہے دس روپے مانگو دھیلے کی بجائے اُس کا کوئی حرج نہیں لیکن جو دھیلا جیب میں ڈالا جاتا ہے بغیر بتائے کہ جی بچ گیا تھا اس کا کیا واپس کرنا تھا اُس میں آئندہ بد دیانتی کے بیج بو دیئے ہیں، آئندہ بے احتیاطیوں کے بیج بو دیے ہیں۔تو قو میں جو بگڑتی اور بنتی ہیں دراصل گھروں میں ہی بگڑتی اور بنتی ہیں۔ماں باپ اگر باریک نظر سے اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہوں تو عظیم مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں یعنی بڑی شاندار قومیں اُن کے گھروں میں تخلیق پاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں بڑے بڑے عظیم اور بعض دفعہ سنگین نتائج پر منتج ہو جایا کرتی ہیں۔تو مالی لحاظ سے اُن کو تقویٰ کی باریک راہیں سکھائیں کہ جتنی باتیں میں کہہ رہا ہوں ان سب کا تقویٰ سے ہی تعلق ہے اصل میں تو تقویٰ کی یہ کچھ موٹی راہیں ہیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں کچھ مزید باریک راہیں ہیں اور واقفین کو ہمیں نہایت لطیف رنگ میں تقویٰ کی تربیت دینی چاہئے۔نظام جماعت کی اطاعت اور ذیلی تنظیموں سے وابستہ کرنے کی عادت بچپن سے ڈالیں اس کے علاوہ سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، ناصرات سے وابستہ کرنا ، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، انصار اللہ جو بعد میں آئے گی لیکن پندرہ سال کی عمر تک خدام کی حد تک تو آپ تربیت کر سکتے ہیں۔خدام کی حد تک اگر تربیت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر انصار کی عمر میں بگڑنے کا امکان شاذ کے طور پر ہی کوئی ہوگا اور نہ جتنی لمبی نالی سے گولی چلائی جائے اتنی دور تک سیدھا رہتی ہے۔خدام کی حد تک اگر تر بیت کی نالی لمبی ہو جائے تو خدا کے فضل سے پھر موت تک وہ سیدھا ہی چلے گا انسان۔الا ماشاء اللہ۔تو اس پہلو سے بہت ضروری ہے کہ نظام کا احترام سکھایا جائے۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہدیدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کے لئے اُس سے زخمی ہو جائیں گے۔آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے۔یہ ایساز خم ہوا کرتا ہے جس کو لگتا ہے اس کو کم لگتا ہے جو دیکھنے والا ہے قریب کا اُس کو زیادہ لگتا ہے اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت سے تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں اُن کی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔واقفین بچوں کو ناصرف اس لحاظ سے بچانا چاہئے بلکہ یہ سمجھانا چاہئے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی عظیم بھی کیوں نہ ہوں اُس کے نتیجے میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا