سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 114

114 بولا، غلط بیانی کی اور اس سے بڑا نقصان پہنچا ہے کہ نہیں جی جب وہ میں نے یہ بات کی تھی اس سے پہلے ، آدھا گھنٹہ پہلے اتنے ہزار ہو چکی تھی تو آدھے گھنٹے میں اتنی تو ضرور بنی چاہئے تھی یعنی فارمولا تو ٹھیک ہے لیکن واقعاتی دنیا میں فارمولے تو نہیں چلا کرتے۔واقعہ ایسی صورت میں یہ بات نکلی کہ وہاں کچھ خرابی پیدا ہوگئی، کوئی آپس میں لڑائی ہوگئی ، گیس بند ہو گئی۔کئی قسم کی خرابیاں ایسی پیدا ہو جاتی تھیں تو جس آدھے گھنٹے میں اُس نے کئی ہزار کا حساب لگا یا وہ آدھا گھنٹہ کام ہو ہی نہیں رہا تھا۔تو یہ عادت عام ہے۔میں نے اپنے وسیع تجربے میں دیکھا ہے کہ ایشیا میں خصوصیت کے ساتھ یہ بہت زیادہ عادت پائی جاتی ہے کہ ایک چیز کا اندازہ لگا کر اُس کو واقعات کے طور پر بیان کر دیتے ہیں اور واقفین زندگی میں بھی یہ عادت آجاتی ہے یعنی جو پہلے سے آئے ہوئے ہیں اور اُن کی رپورٹوں میں بھی بعض دفعہ ایسے نقص نکلتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے اس بات کی بچپن سے عادت ڈالنی چاہئے کہ جتنا علم ہے اس کو علم کے طور پر بیان کریں، جتنا اندازہ ہے اُس کو اندازے کے طور پر بیان کریں اور اگر بچپن میں یہ عادت آپ نے نہ ڈالی تو بڑے ہو کر پھر دوبارہ رائج کرنا، بڑی عمر میں رائج کرنا بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں انسان بغیر سوچے کرتا ہے۔عادت کا مطلب ہی یہ ہے خود بخود منہ سے ایک بات نکلتی ہے اور یہ بے احتیاطی بعض دفعہ پھر انسان کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاتی ہے اور بڑی مشکل صورتحال پیدا کر دیتی ہے کیونکہ ایسے لوگوں میں سے بہت سے میں نے ایسے دیکھتے ہیں جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ کیوں کیا تو بجائے اس کے کہ اُس کی صاف بات بیان کریں کہ یہ ہم سے غلطی ہو گئی ہم نے اندازہ لگایا تھا وہ اپنی پہلی غلطی کو چھپانے کے لئے دوسری دفعہ پھر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی ایسا عذر تلاش کرتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جب اُس عذر کو پکڑیں تو پھر ایک اور جھوٹ بولتے ہیں۔خجالت الگ، شرمندگی الگ سب دنیا اُن پہ ہنس رہی ہوتی ہے اور وہ بیچارے جھوٹ پہ جھوٹ بول کے اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ چیز میں بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جب گھر میں پکڑے جاتے ہیں کسی بات پر کہ آپ نے یہ کہا تھا یہ نہیں ہوا اُس وقت وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ماں باپ اس کا نوٹس نہیں لیتے۔اس کے نتیجے میں مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ ایسے بگڑتے ہیں کہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے عادتا وہ یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔تو ایسے واقفین اگر جامعہ میں آجائیں گے تو جامعہ میں تو کوئی اور ایسا جادو نہیں ہے کہ اچانک ان کی یہ پرانے بگڑے ہوئے رنگ اچانک درست ہو جائیں۔ایسے رنگ درست ہوا کرتے ہیں غیر معمولی اندرونی انقلابات کے ذریعے۔وہ ایک الگ مضمون ہے۔ہم ایسے انقلابات کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے لیکن یہ دستور عام نہیں ہے۔اس لئے ہم جب حکمت کے ساتھ اپنی زندگی کے پروگرام بناتے ہیں تو اتفاقات پر نہیں بنایا کرتے بلکہ دستور عام پر بنایا کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے بچوں کو بہت گہری تربیت دینے کی ضرورت ہے یعنی جھوٹ