سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 63
63 میرے بچوں کو نماز ترجمہ کے ساتھ آتی بھی ہے کہ نہیں اور نہ پتہ ہے نہ خیال آیا ہے اور بعض لوگ دوسروں کو ڈھونڈتے ہیں۔جن کو خیال آتا ہے وہ کہتے ہیں جی ہمارے پاس کوئی نماز سکھانے کا انتظام نہیں ہے اس لئے ایک مربی بھیجا جائے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مربیوں کا کام ہے نماز سکھانا اور پڑھانا حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ والدین کا کام ہے۔گھر سے شروع کرو اور پھر مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کو قائم کر کے دکھاؤ وہاں۔یہ عجیب سوال ہوتا ہے میں حیرت سے دیکھتا ہوں اگر تمہیں خود نماز نہیں آتی تو پہلے اپنی فکر کرو، بچوں کی کیا بات شروع کی ہے پہلے خود تو نماز سیکھو اور اگر خود نماز آتی ہے تو مربی کا کیا انتظار کرتے ہو۔جو اولین مقصد ہے انسانی تخلیق کا اس مقصد سے محروم ہو رہے ہو محروم رہ رہے ہو اور انتظار کر رہے ہو کوئی آئے گا تو وہ ہمیں سکھا دے گا۔اتنے مربی نہ جماعت کے پاس ہیں نہ یہ ممکن ہے کہ مربی دوسرے سارے کام چھوڑ دیں۔جتنے ہیں اگر وہ سارے کام دوسرے چھوڑ دیں اور یہی کام شروع کریں تو تب بھی وہ پورے نہیں ہوں گے۔اس لئے قرآن کریم بڑا حکیمانہ کلام ہے۔وہ واقعاتی بات کرتا ہے خیالی اور فرضی بات نہیں کرتا۔یہ ذمہ داری مربی پر نہیں ڈالی بلکہ ہر خاندان کے سربراہ پر ڈال دی ہے کہ تم کوشش کرو تمہاری ذمہ داری ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بھی یہی بتایا کہ بڑی خوبیوں کا مالک تھا ، وہ اپنی اولاد کو اپنے اہل وعیال کو مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلاتا رہتا تھا۔جماعت احمدیہ کا اہم کام عبادت کو قائم کرنا ہے پس جماعت احمدیہ میں سب سے اہم کام اس وقت عبادت کو قائم کرنا ہے نماز کو نہ صرف قائم کرنا ان معنوں میں کہ ظاہراً کوئی شروع کر دے بلکہ اس کے اندر مغز کو اور روح کو بھرنا ہے اور جب تک بچپن سے نماز کا ترجمہ ساتھ نہ سکھایا جائے اس وقت تک نماز کے معنی انسان نماز پڑھتے وقت اپنے اندر جذب نہیں کر سکتا۔ایک غیر زبان ہے ہم سوچتے اپنی زبان میں ہیں اور غیر زبان اگر سیکھ بھی لیں تب بھی عملاً ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔سوائے اس کے کہ بعد میں بہت مہارت پیدا ہو جائے ورنہ شروع میں ہر انسان جو غیر زبان سیکھتا ہے وہ بولتے ہوئے بھی سنتے ہوئے بھی ساتھ ساتھ تیزی سے اس کا ترجمہ کر رہا ہوتا ہے۔انسانی کمپیوٹر خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ بعض دفعہ محسوس نہیں ہوتا مگر عملاً یہ ہورہا ہوتا ہے۔اس زبان میں پہلی دفعہ خود سوچنا یہ بہت مہارت کے بعد آتا ہے۔اسی لئے نماز پڑھنے والوں کی بھی کئی قسمیں اس پہلو سے بن جاتی ہیں کچھ وہ ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد ہے جن کو آتا ہی نہیں نماز کا ترجمہ۔اب ان کو تر جمہ ہی نہیں آتا تو بیچارے سوچیں گے کیا پھر وہ ہیں جن کو تر جمہ آتا ہے لیکن جب تک پہلے عربی پڑھ کر پھر ساتھ اس کا ظاہر اترجمہ نہ کریں دماغ میں، دھرائیں نہ پوری بات کو۔اس وقت تک ان کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ میں کیا کہ رہا ہوں اور جن کو نماز آتی ہے ان میں سے ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اتنا وقت نہیں دیتی۔نماز پڑھتے ہیں