سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 34
34 کے جس قدر حقوق عائد ہوتے ہیں ، ان سب کو ادا کرتے تھے۔یعنی جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میرا گھر مسجد ہے تو پانچوں نمازوں کے لئے آپ کے گھر کے دروازے کھلے رہتے تھے۔صبح کے وقت نمازی آتا تھا تو دروازے کھلے ہوتے تھے۔رات کو عشاء کی نماز کے لئے آتا تھا تب بھی دروازے کھلے ہوتے تھے اور دو پہر کو بھی دروازے کھلے رہتے تھے۔پھر نمازیوں کے لئے وضو کا انتظام تھا اور دیگر سہولتیں بھی مہیا تھیں۔یہ سب کچھ آپ اس لئے کرتے تھے کہ آپ کو نماز با جماعت سے ایک عشق تھا اور یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی حالت میں بھی آپ کی کوئی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے رہ جائے۔چنانچہ آپ کی اولاد میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کی بڑی پابندی پائی جاتی ہے۔اہل قادیان میں جماعت کا شوق یہ صرف ایک نمونہ ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔اسی قسم کے ہزار ہا نمونے قادیان میں رہنے والوں کی یادوں میں بس رہے ہونگے۔نماز کا اتنا شوق پایا جاتا تھا اور اس کی اتنی تربیت تھی کہ قادیان کے پاگل بھی نمازی رہتے تھے ایسے پاگل جو دنیا کی ہر ہوش گنوا دیتے تھے۔وہ نماز پڑھنے کے لئے اکیلے مسجدوں میں پہنچ جایا کرتے تھے۔نماز پڑھنے کی عادت ان کی زندگی میں ایسی رچ بس گئی تھی کہ وہ اس سے الگ ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ایسے ہی ایک راجہ اسلم صاحب ہوا کرتے تھے۔جب پاگل پن کی انتہاء ہوگئی تو بیچارے گھر سے باہر چلے گئے۔پاگل پن میں جو بھی اندرونہ ہو وہ باہر آجاتا ہے۔چونکہ ان پہ نیکی کا غلبہ تھا اس لئے (آخری اطلاع کے مطابق) تبلیغ کے جنون سے غالبا روس کی طرف چلے گئے تھے۔پھر انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان پر کیا گزری۔لیکن پاگل پن کے انتہا کے وقت بھی پانچوں نمازوں میں مسجد میں آیا کرتے تھے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اصحاب کو خدا تعالیٰ نے عبادت کے قیام کی جو توفیق بخشی تھی وہ اگلی نسل یعنی تابعین تک بھی بڑی شدت کے ساتھ جاری رہی۔اب ہم ایک ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں تابعین اور تبع تابعین کا جوڑ ہے اور اگر ہم نے اس وقت بشدت اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کی تو خطرہ ہے کہ آگے بے نمازی پیدا ہونے نہ شروع ہو جائیں۔اس لئے ہمیں غیر معمولی جہاد کی روح کے ساتھ نماز کے قیام کی کوشش کرنی چاہیئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ جہادگھروں سے شروع ہوگا۔جلسہ سالانہ کے ایام میں نماز با جماعت کا التزام اب جلسہ سالانہ کے ایام قریب آرہے ہیں اور ربوہ کے گھروں کو خدا تعالیٰ ایک غیر معمولی حیثیت عطا کرنے والا ہے وہ گھر جو نمازی گھر ہیں ان کا فیض دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے گا۔دور دور سے آنے والے جو لوگ ان کے ہاں ٹھہریں گے وہ ان سے نیک نمونہ پکڑیں گے اور ان آنے والوں میں سے اگر کوئی