سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 441
441 قصور کی وجہ سے خودسری نہیں آتی بعض جماعتوں میں کچھ گٹھلیاں بن جاتی ہیں۔کچھ شریروں کی گٹھلیاں جن کا شغل ہی یہ رہتا ہے کہ کچھ ایک گروہ یہاں بنالیا ایک گروہ وہاں بنالیا اور تاک میں رہتے ہیں کہ امیر سے جو بھی ہو جب بھی کوئی غلطی ہو اس کو پکڑیں اور بلند آواز سے کہیں کہ یہ دیکھو یہ حرکتیں کر رہا ہے ہم اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔موقع ملے تو دھمکیاں بھی اس کو دیں۔ایسے ظالموں کی کینسر کی گٹھلیاں بھی کئی جگہ موجود ہیں اور جہاں یہ موجود ہیں وہاں امیر کو ہم نے بدل بدل کے دیکھ لیا۔انتہائی رافت کرنے والا ، شفقت کرنے والا امیر بھی بھیجیں تو اس کے ساتھ وہی بدتمیزی کا سلوک ہوگا بلکہ بعض دفعہ نسبتاً سخت امیر کے سامنے یہ لوگ جھک جاتے ہیں۔اور بعض دفعہ اس نیت سے سخت امیر مقرر کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ لوگ نیکی اور شفقت اور رحمت کی زبان سے بالکل نابلد ہو جاتے ہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں یہ زبان ہوتی کیا ہے۔وہ دوسری زبان کسی حد تک سمجھتے ہیں۔کوئی مضبوط امیر کو جو بد تمیزیاں برداشت نہ کرے اور آگے سے اسی طرح دوٹوک جواب دے سکے تو وہ ماحول تو نہیں ہے جو اسلامی ماحول ہے اس کو تو میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا۔مگر بیماروں کی دنیا میں صحت مند قانون چلا بھی تو نہیں کرتے۔وہاں پر یہ مضمون صادق آتا ہے جیسی روح دیسے فرشتے۔روح ہی بد ہے تو فرشتے بھی تو ویسے ہی سخت گیر ہوں گے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو جہنم کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔کہتا ہے جہنم کے فرشتے بھی بڑے سخت گیر ہیں۔کوئی رحم نہیں جانتے۔وہ جہنمی چیختے چلاتے رہتے ہیں کہ اے جہنم کے داروغے ہمارے لئے خدا سے کچھ مانگ۔وہ کہتا ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اور ان کی سخت گیری جو ہے وہ اٹل ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔تو جیسی روح ویسے فرشتے کا مضمون محض محاورہ نہیں۔قرآن سے ثابت ہے کہ جیسے جیسے لوگ ہوں ویسے ویسے ہی فرشتے ان پر مسلط کئے جاتے ہیں۔چنانچہ مرتے وقت کے فرشتے آتے ہیں۔جو نیک لوگوں کے فرشتے ہیں وہ ان کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں ان کو محبت اور پیار سے تیار کرتے ہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے لئے۔اور خوش خبریاں دیتے ہیں کہ تم ایک تکلیف کے مقام سے ایک آرام کے مقام کی طرف منتقل ہورہے ہو۔اور جو سخت گیر فرشتے ہیں وہ ان لوگوں پر آتے ہیں جو ظالم ہیں۔ساری عمر انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہوں۔ان کو کہتے ہیں خود اپنی جانیں نکال کر باہر لاؤ۔اب اس قسم کا سخت منظر ہے کہ اس کو قرآن کریم میں پڑھتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو اس لئے کہ کہنا کہ بعض دفعہ لوگ سخت گیر مزاج کے مستحق ہو جاتے ہیں یہ قرآنی مضامین سے مختلف نہیں مگر اسے مثالی ماحول بہر حال نہیں کہا جا سکتا۔مثالی ماحول تو وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اور آپ نے اپنی تمام زندگی میں اطاعت کو قائم کرنے میں جو نمونے دکھائے ہیں ان نمونوں کی پیروی کر رہا ہو۔اگر سو فیصد نہیں تو کوشش ضرور ہو کہ ویسے نمونے پیدا ہوں۔جہاں یہ صورت حال ہو وہاں حضرت مسیح موعود کی جماعت میں یہ خوبی ہے کہ وہ