سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 442
442 پھر اپنی جان بھی ایسے امیروں سے نچھاور کرنے لگتی ہے۔صدر ہو خدام الاحمدیہ کا، قائدہ ہو، زعیم ہو ان سب سے قطع نظر اس کے کہ ان کا کوئی رشتہ کوئی دوستی کا تعلق کچھ مزاج میں ہم آہنگی ہے کہ نہیں وہ لوگ گہری محبت کا سلوک کرتے ہیں۔ان کا خیال رکھتے ہیں۔ان کی ہر بات کو قبول کر کے ہر پہلو سے اس پر عمل درآمد کی کوشش کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے جماعت کی تاریخ میں بہت سی بڑی بڑی جماعتوں کی ایسی مثالیں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کسی ایک امیر نے ایسا سلوک کیا تو آج تک ان جماعتوں کو اسی امیر کا فیض نصیب ہو رہا ہے اور اس کی نیکیوں کا پھل آج تک کھا رہے ہیں۔اس کے لئے دعائیں نہ کریں تو ان کی بے پرواہی ہے، ناشکری ہے۔مگر جو شخص نیک روایات پیچھے چھوڑ جائے ، جس نے عرق ریزی کے ساتھ اور اپنا خون بہا کر محنت کر کے وہ پاکیزہ ماحول بنایا ہو جو بہترین اسلامی ماحول ہے جس میں امیر اپنے ماتحتوں پر فدا اور ماتحت اپنے امیر پر فدا ، اس کی رضا پر نظر رکھنے والے ہوں یہ ماحول پھر بعض دفعہ نسلاً بعد نسل ان لوگوں پر احسان کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض شریر اس کو بدلنے کی کوشش کریں ،اس کے مزاج کو بگاڑ دیں۔پس یہ وہ بار یک باتیں ہیں جن میں سے ہر بات پر نظر رکھنی ہوگی۔اطاعت کیا ہے جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہمارا دائرہ اختیار کیا ہے۔اطاعت کہتے کس کو ہیں۔اور یہ یا درکھنا چاہئے کہ اطاعت تو اصل وہ ہے کہ مرضی کے خلاف ہو اور جان کی قربانی پیش کرنی پڑے۔امیر، بحیثیت امیر جماعت کے تصور میں نہیں وہ بھی ، جو بھی جس کو خدا نے کسی حکم پر فائز فرمایا ہو، جس دائرے میں بھی ہو ، اس سے غلطی بھی ہو جاتی ہے تو اس غلطی کو نظر انداز کر کے اپنے اطاعت کے فرائض میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہونے دیں۔اور اس مضمون کو یا درکھیں کہ میں اپنی جان، مال، عزت اور وقت کو قربان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہوں گا۔یہ اطاعت کا وہ مضمون ہے جس کو حضرت مصلح موعودؓ نے اس عہد کی صورت میں ہمیں سمجھایا کہ اطاعت محض خشک اطاعت کا نام نہیں ہے کہ مرضی کی بات ہو تو اطاعت کرو، جہاں تکلیفیں اور آزمائشیں سامنے آئیں وہاں اطاعت سے پیچھے ہٹ جاؤ۔جان ، مال عزت اور وقت کو قربان کرنے کے لئے تیار رہوں گا۔بعض لوگوں کو تو میں دیکھا ہے کہ یہ بھی لکھتے ہیں اس امیر نے لمبی باتیں کیں ، ہمارا وقت ضائع کیا۔فلاں بات کی ہمارا وقت ضائع کر دیا۔اگر وہ ٹھیک ہے تو میرا فرض ہے کہ اس امیر کو سمجھاؤں۔اور اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو وہ سرزنش کا سزاوار ہو گیا ہے۔لیکن آپ کا یہ کام نہیں کہ امیر پر روز مرہ اٹھ کر ایسی باتیں کریں تم مجلسوں میں لمبی باتیں کرتے ہو ہمارا وقت ضائع کرتے ہو، بلایا ہے کوئی خاص بات بھی نہیں تھی۔یہ دل کی بد تمیزیاں ہیں۔ان کو حقوق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ماتحت کے حقوق ہیں۔ماتحت کا حق ہے تو امیر پر ہے کہ ان