سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 407
407 جس طرح اپنی پردہ پوشی کرتے ہو غیر کی بھی پردہ پوشی کرو پردہ پوشی کا مضمون بھی اسی طرح بدن سے تعلق رکھتا ہے جیسا کہ باقی سب امور جو میں نے بیان کئے ہیں ایک بدن کی مثال سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک انسان جب دیکھتا ہے کہ کسی جگہ سے وہ بے پرد ہو رہا ہے تو فورا بے اختیار اس کا ہاتھ اپنے اس قمیص کی طرف یا اس کپڑے کی طرف جائے گا جو ننگے بدن کو ڈھانپ نے اور بعض دفعہ بجلی کی سرعت سے، بغیر سوچے سمجھے، از خود ہاتھ حرکت کرتا ہے۔احساس ہو سہی کہ کہیں سے میں نگا ہو رہا ہوں اور اپنے جرموں پر بھی اور اپنی کمزوریوں پر بھی پردہ ڈالنے کے لئے تو انسان اتنی اتنی کوششیں کرتا ہے کہ بعض دفعہ وہ کوششیں دھوکہ دہی تک پہنچ جاتی ہیں۔شرم سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنا اور ان پر پردہ ڈالنا اور بات ہے لیکن دھو کہ وہی کی خاطر، جو نہیں ہے، وہ دکھانا وہ اور چیز ہے۔تو پردہ پوشی بعض دفعہ بے احتیاطی کے ساتھ کی جائے، اور انسان کا ضمیر عموما اس معاملے میں انسان کو بے احتیاطی پر مجبور کر ہی دیتا ہے، تو وہ دکھاوے پر منتج ہو جاتی ہے، وہ منافقت پر منتج ہو جاتی ہے، اتنا گہرا مادہ انسان کے اندر اپنے ننگ اور عیوب کو ڈھانپنے کا فطر تا ودیعت کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں نے تمہیں ایک بدن قرار دے دیا، جب تم سے مجھے یہ توقعات ہیں کہ ایک جسم کی طرح اپنے تمام بھائیوں سے سلوک کرو گے جس طرح ایک جسم کے ہر عضو سے تمہاری روح تمہارا دماغ، تمہارا شعور سلوک کرتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح اپنی پردہ پوشی کرتے ہو غیر کی بھی پردہ پوشی کرو۔اور پردہ پوشی کے مضمون میں اس دنیا کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قیامت کا ذکر فرمایا ہے۔ضرورتیں پوری کرنے کے مضمون کا جہاں تک تعلق ہے وہاں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتیں پوری کر دیے گا۔پردہ پوشی کے تعلق میں اس دنیا کا ذکر ہی کوئی نہیں قیامت تک بات پہنچا دی۔یہ اس بات کی گہری اور قطعی دلیل ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اللہ کے نور سے کلام کرتے تھے اور یہ حدیث یقیناً کچی حدیث ہے۔کیونکہ ایک عام باتیں کرنے والا انسان، عام نصیحت کرنے والا انسان از خود اس موقع پر یہی کہے گا کہ تم کسی کی پردہ پوشی کر و خدا تمہاری یہاں پردہ پوشی کرے گا۔اچانک اس بات کو اٹھا کر قیامت تک پہنچا دینا اس میں ایک گہری حکمت ہے۔باقی تمام ضرورتوں کا تعلق دنیا سے ہے اور قیامت کی پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی پردہ پوشی اس میں شامل ہے لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کے عیوب اس دنیا میں نگے نہیں ہوں گے مگر قیامت کے دن ضرور ننگے کئے جائیں گے۔پس آخری پردہ پوشی وہی ہے جو قیامت کے دن ہوگی اور قیامت کے ذکر میں دنیا کی پردہ پوشی کو حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھلا نہیں دیا، نظر انداز نہیں فرمایا ، بلکہ فرمایا ہے کہ وہ دن جب کہ دنیا میں سب ڈھکے