سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 219

219 دعوت الی اللہ کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کارلائیں۔۔۔۔اس لئے جاگئیں اور بیدار ہوں اور یقین کریں کہ خدا تعالیٰ نے جیسے دنیا کے نظام میں اکثر بیجوں میں پھولنے پھلنے کی صلاحیت رکھی ہوتی ہے، اکثر انسانوں کو یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ صحیح طریق اختیار کریں تو خدا ان کو اولاد عطا کرے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت بھی گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کی طرح بالعموم یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ پھولے پھلے اور دنیا میں ایک انقلاب عظیم برپا کر دے اور اتنے وقت میں کرے کہ اس انقلاب کے دوران وہ آپ بیمار نہ ہو چکی ہو۔وہ امتیں جن کو پھل دیر سے لگتے ہیں ، بہت لمبے عرصے بعد لگتے ہیں ان کی نشو و نما بعض دفعہ ایسے ذرائع سے ہوتی ہے جو ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتے۔خدا کی تقدیر کا وعدہ ہے کہ میں غالب آؤں گا اور غالب کروں گا تو زمانے کے حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اکثریت ان کے ساتھ ہو جاتی ہے مگر ضروری نہیں کہ ان کے اندر صلاحیتیں باقی رہی ہوں۔ضروری نہیں کہ وہ صالح لوگ رہیں۔بہت سی فتوحات ایسی بھی ہوتی ہیں جبکہ امتیں بیمار ہو چکی ہوں اور پھر فتح - نصیب ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم جب تک کمزور اور محدود تھی با صلاحیت تھی۔اس میں ایسے لوگ تھے اور بڑی کثرت سے تھے جنہوں نے وحدانیت کو ہمیشہ زندہ رکھا، وحدانیت سے چمٹے رہے، وحدانیت کا علم بلند رکھا اس کی خاطر قربانیاں دیں ، خدا کی توحید پر قائم رہے۔ان کا ذکر سورہ کہف میں اصحاب الکہف کے ذکر میں ملتا ہے لیکن جب عیسائیت سے روم فتح ہوگیا تو ایسی حالت میں فتح ہوا کہ تثلیث پھیل چکی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ فتح کا وعدہ تو خدا نے پورا کر دیا کیونکہ وہ مسیح سے وعدہ تھالیکن وہ ایک بیمار فتح تھی۔اس کے نتیجہ میں یہ نہیں کہ دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔میں پہلے بھی اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں کہ کچے مذاہب بگڑنے کے باوجود بھی بہت سی صلاحیتیں زندہ رکھتے ہیں اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ بچے مذاہب خواہ بگڑ چکے ہوں ان کے غلبے سے دنیا کو فائدہ نہ پہنچا ہو۔ایک جہت سے نہ ہو دوسری جہت سے پہنچ جاتا ہے مگر مذہب کا جو اصل اعلیٰ مقصد ہے وہ حاصل نہیں ہوتا اور ہر مذہب کا اعلیٰ مقصد تو حید کا قیام ہے۔پس عیسائیت کی بڑی بدنصیبی ہے کہ ایسی حالت میں فتح پائی جبکہ تو حید بالعموم ہاتھ سے جاتی رہی تھی اور بہت تھوڑے تھے جو تو حید پر قائم تھے۔پس صرف یہ بحث نہیں ہے کہ آپ میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی صلاحیت ہے بلکہ اس صلاحیت کو اس تیزی سے استعمال کریں کہ آپ کی روحانی صلاحیتیں ، ابھی زندہ ہوں اور ان میں نقص نہ پیدا ہو چکے ہوں۔اگر بیمار حالت میں آپ کو ترقی نصیب ہو تو اس ترقی کا کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہے۔کچھ نہ کچھ فائدہ تو ضرور ہوگا لیکن اعلیٰ مقاصد میں آپ نا کام ہو چکے ہوں گے اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ترقی کی رفتار کا اقدار کی حفاظت سے ایک گہرا تعلق ہے۔بہت دیر تک اگر قوموں کو ترقی نہ