سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 211

211 مشتمل ہو مجلس عامله با اخلاق، با ادب، با تمیز افراد پرمش (خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1991ء) ایک اور ہدایت ساری دنیا کی جماعتوں کو یہ دینی چاہتا ہوں کہ جہاں تک میں نے جھگڑوں اور فتنوں کی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے ایک سبب ہر جگہ موجود دکھائی دیا ہے کہ جب بھی کوئی بدا خلاق آدمی مجلس عاملہ میں آجائے تو اس سے ضرور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ایسا شخص جس کی زبان میں تیزی ہے جو طبعا بدخلق آدمی ہے اور پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی بات سے کسی کا دل کہتا ہے۔اپنے ساتھی کے ساتھ ادب اور احترام سے گفتگو کرنے کی بجائے کڑوی بات پتھر کی طرح مارتا ہے۔بعض لوگ اس کا نام سچائی قرار دیتے ہیں کہ دیکھو جی ! ہم تو سچی بات کریں گے۔ہم تو رکھیں گے نہیں۔یہ سچی بات نہیں ہے یہ بد تمیزی ہے۔سچ بولنے میں اور سچ بولنے میں فرق ہوا کرتا ہے۔ایک با اخلاق انسان سچ بات کہتا ہے مگر حتی المقدور کوشش کے ساتھ کہ کسی کو دکھ نہ پہنچے اور جو بچ کے نام پر بد تمیزیاں کرتے ہیں وہ بچے ہوتے بھی نہیں ہیں۔یہ بھی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب ان کا جائزہ لیا جاتا ہے تو بیچ کے نام پر بڑے بڑے جھوٹ بول جایا کرتے ہیں۔بدخلق انسان سے بچیں اور چونکہ مجالس عاملہ کا انتخاب جماعت کرتی ہے اس لئے جماعت کو اپنے انتخاب کے وقت اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔جو شخص اپنی روزمرہ کی گفتگو میں با ادب نہیں ہے اور زبان کا کرخت ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک اٹھتا ہے ایسے شخص کو اگر آپ مجلس عاملہ میں منتخب کر کے لائیں گے تو اس مجلس عاملہ کا تقدس باقی نہیں رہے گا اور اس کے نتیجے میں صدر یا امیر یا دوسرے عہد یداروں کے لئے بھی شرمندگی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور ساری جماعت کو بھی وہ فتنوں میں ملوث کر سکتا ہے۔امرائے جماعت کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ جائزہ لیں اگر ان کی عاملہ میں یا ان کے ماتحت جماعتوں کی عاملہ میں کوئی بدخلق لوگ داخل ہو گئے ہیں تو مجھے لکھیں تا کہ پیشتر اس سے کہ کوئی فتنہ پیدا ہو، وہ خودا ابتلاء میں پڑیں یا دوسروں کو ابتلاء میں ڈالیں ان کو ان عہدوں سے سبکدوش کر دیا جائے۔اگر مجالس عامله با اخلاق ، با ادب با تمیز افراد جماعت پر مشتمل ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسی مجالس کوفتوں کا ڈر نہیں ہوا کرتا۔" (خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 809-810)