سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 186
186 ہے اور وہ ہرلمحہ زندگی کا ایک موڑ بن جاتا ہے جس میں انسان دنیا کی طرف سے رخ پھیر کر دین کی طرف رخ اختیار کر لیتا ہے۔پس دعا کریں کہ آپ کو بھی زندگی کا کوئی ایسا ہی لمحہ نصیب ہو جو زندگی کا ایسا موڑ بن جائے جس میں آپ کا رخ دنیا سے ہٹ کر خدا کی طرف ہو جائے اور اگر یہ ہو جائے تو پھر آپ کی ہجرت دنیا وی لحاظ سے بھی کامیاب ہوگی اور دینی لحاظ سے بھی کامیاب ہوگی اور آپ کو زندگی کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔تو اس پہلو سے انصار کو بھی ، خدام کو بھی اور لجنات کو بھی اپنے ممبروں کو اور ممبرات کو یاد دلاتے رہنا چاہئے کہ ہمیں بالآخر لازماً خدا کی طرف ہجرت کرنا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر بھی بہر حال ہم خدا ہی کی طرف لوٹیں گے۔۔۔۔۔انصار اپنے ممبر کو اسفل السافلین معاشرے سے نکل کر خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبق دے اَسْفَلَ سَفِلِينَ کا مطلب یہ ہے کہ بد سے بدتر اور بدتر سے بدترین ہوتا چلا جائے گا۔یعنی وہ واپس حیوانی خصلتوں کی طرف لوٹ جائے گا۔قرآن کریم کے اس بیان کی صداقت ہمیں ان انسانوں کی زندگی میں ملتی ہے جو لذت حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی گندگی پر منہ مارتے ہیں اور جب ان کو عام ان باتوں میں لذت نہیں ملتی جو خدا نے صحت مند لذتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں تو پھر وہ گندگی کو کھودتے کھودتے اور زیادہ غلاظت کی تہہ تک اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جو Drug کے ذریعے ایک قسم کی روحانی لذت حاصل کرنے کا جنون ہے یہ دراصل اسی کوشش کا دوسرا نام ہے اور اس کے علاوہ جنسیات میں جس حد تک انسان اس وقت ارزل ہو چکا ہے اور اَسْفَلَ سَفِلِینَ کی طرف لوٹ چکا ہے اس کا سارا مغربی معاشرہ گواہ ہے لیکن ماضی کی طرف لوٹنا اور حیوانی صفات اختیار کر کے لذت حاصل کرنے کی کوشش کرنا انسان کے کسی کام نہیں آسکتا۔وہ دن بدن پاگل ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ لذتیں معنی کھو دیتی ہیں ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں۔اس پاگل پن میں پھر بہیمانہ تحریکات چلتی ہیں۔کئی قسم کے جنون پیدا ہوتے ہیں کئی قسم کی Cults نکلتی ہیں۔کہیں چھٹے بجا بجا کر اپنی روح کی تسکین کے سامان کی کوشش کی جاتی ہے کہیں بال بڑھا کر کہیں بال منڈھوا کر، کہیں ایک دوسرے پر ظلم کر کے، کہیں جتھے بنا کر جرم کرنے کے نتیجے میں لذت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ سارے وہی نقوش ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے نشاندہی کی تھی کہ ان نقوش پر چلتے ہوئے تم الٹے پاؤں واپس اونی حالتوں کی طرف لوٹ جاؤ گے سوائے اس کے کہ تم ایمان لے آؤ اور اعلیٰ بہترین عمل اختیار کر واس صورت میں تمہارے لئے ترقی کا ایک لامتناہی سلسلہ کھلا ہوا ہے۔پس خدام کو اور لجنات کو اور انصار کو یہ سبق اپنے ہر مبر کو پڑھانے چاہئیں کہ یہ جو مغرب کا معاشرہ