سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 185

185 خطروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولتے ہیں۔جب اُن کے سامنے دو فیصلے ہوتے ہیں کہ یا جھوٹ کی پناہ لینی ہے یا سچ بول کر سزا پانی ہے یا اس ملک سے واپس چلے جانا ہے۔اس قسم کے بعض فیصلے جب ان کو در پیش ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے وہ سچ بولتے ہیں اور پھر وہ حیران ہو جاتے ہیں کہ جن خطرناک نتائج کو قبول کرنے کے ارادے سے انہوں نے بیچ بولا تھا وہ خطرناک نتائج اس طرح ٹل جاتے ہیں جیسے ان کا وجود ہی کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ غیب سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔پس سچ بولنا ہے خواہ خدا لازماً حفاظت فرمائے یا نہ فرمائے ، اس کا نام تو حید ہے۔یہ کوئی شرط یا سودا بازی نہیں ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بیچ کی پناہ گا ہیں یقینا کچی ہیں اور انسان بیچ کی پناہ لینے کے نتیجہ میں اکثر صورتوں میں امن میں آجاتا ہے اور جھوٹ کی پناہ گاہیں یقیناً جھوٹی ہیں اور اکثر جھوٹ کی پناہ عارضی ہوتی ہے اور سرسری ہوتی ہے اور فی الحقیقت جھوٹ آپ کو کسی خطرے سے بچا نہیں سکتا کیونکہ جھوٹ کی پناہ بھی جھوٹ ہوا کرتی ہے۔پس اگر عقل سلیم اختیار کرنی ہے، گہرے طور پر حالات کا جائزہ لینا ہے تو اس کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں۔خدا کی خاطر کریں یا بالآ خر اپنی خاطر کریں، بچنا ہے تو سچ کی پناہ گاہوں میں بچ سکتے ہیں۔اگر ہلاک ہونا ہے تو پھر جھوٹ کی پناہ گا ہیں آپ کے لئے کھلی پڑی ہیں۔بے شک انہیں اختیار کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم پوری گہرائی کے ساتھ اور باریک نظر کے ساتھ سچائی پر قائم ہو جائیں اور بڑے سے بڑے ابتلاء میں بھی کسی جھوٹے خدا کی پناہ میں نہ آئیں اور یہ فیصلہ کریں کہ توحید کے سائے میں مرنا بہتر ہے بہ نسبت جھوٹ کے سائے کی بظاہر زندگی کے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)" خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 516-530) انصار،خدام، لجنہ سے جو بھی ہجرت کر کے جرمنی آیا ہے اسے لازماً خدا کی طرف ہجرت کرنا ہوگی خطبہ جمعہ 14 ستمبر 1990ء) " آپ میں سے وہ خواہ نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، مرد ہوں یا عورتیں ہوں ، جو ہجرت کر کے یہاں تشریف لائے ہیں ان کو میں مختصراً یہ بات یاد کراتا ہوں کہ آنے سے پہلے اگر نیت کچھ اور تھی بھی۔تب بھی اب اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور دنیا سے دین کی طرف ہجرت کریں۔یہ ہجرت زندگی کے ہر لمحے پر ہوسکتی