سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 183
183 باتیں کریں۔یہ بتائیں کہ کس طرح سوسائٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔کس طرح ہمارا ملک پاکستان یا ہندوستان یا دوسرے ممالک جھوٹ کی وجہ سے موت کے کنارے تک پہنچے ہوئے ہیں۔تمام اخلاقی قدریں تباہ ہوگئی ہیں۔کسی پہلو سے سوسائٹی میں امن نہیں رہا۔اگر جھوٹ نہ ہو تو رشوت پنپ ہی نہیں سکتی۔اگر جھوٹ نہ ہو تو جرائم کے ارتکاب پر کسی قسم کی چھوٹ مل ہی نہیں سکتی۔جیسا کہ ہمارے ملک میں موجود ہے۔جھوٹ نہ ہوتو لازماً انصاف ملتا ہے جھوٹ نہ ہو تو لاز ما انصاف حاصل ہوتا ہے۔یہ جو نا انصافیاں اور ظلم جتنے بھی چل رہے ہیں غریبوں کی جائیدادوں پر قبضے، چوری، ڈاکے، تمام کی بنیا د جھوٹ پر ہے۔پس مجالس میں کھول کر ایسی باتیں کرنی چاہئیں اور سمجھانا چاہئے کہ ہمیں ان عادتوں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔جھوٹ کے معاملے میں گھروں میں بھی جہاد ہونا چاہئے۔وہ مائیں یا والدین جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پاک طبیعت رکھتے ہیں ان کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہئے اور اس معاملے میں پوری سختی کرنی چاہیئے یعنی سختی سے مراد یہ نہیں کہ ان کو بید مارے جائیں۔مراد یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ جھوٹ بولتا ہے تو اس سلسلے میں اپنی ناراضگی کا کھلا کھلا اظہار کرنا چاہئے تاکہ بچے کو محسوس ہو کہ اس کی اس حرکت سے والدین کو سخت تکلیف پہنچی ہے اور اس نے اُن سے حاصل ہونے والا پیار کھو دیا ہے۔کئی طریق ہیں جن کے ذریعے بچے کو بڑی سختی کے ساتھ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ اس ماحول میں پلنے والے بہت سے بچے ایسے ہوں گے جو اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے زیادہ سچ بولنے والے ہوں گے کیونکہ میں نے یہ بھی جائزہ لے کر دیکھا ہے کہ انگلستان میں بھی اور یہاں بھی جو بچے شروع میں یہاں آگئے اور یہاں کے ماحول میں پلے بڑھے ہیں، ان میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سچ بولنے کا رجحان اپنی بڑی نسلوں سے زیادہ پایا جاتا ہے۔اس لئے میں بچوں کو بھی نگران بنا تا ہوں کہ وہ اپنے والدین اور بڑوں بزرگوں کے نگران بنیں اور جب اُن سے کوئی ایسی بیہودہ حرکت سرزد ہوتی دیکھیں جس سے پتہ لگے کہ وہ جھوٹ کی طرف مائل ہیں یا کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں تو بچوں کو ان کو سمجھانا چاہئے۔یہ خیال دل سے نکال دیں کہ بچے اگر بڑوں کو سمجھا ئیں تو یہ بے ادبی ہوگی کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بزرگوں کو سمجھایا اور دوٹوک باتیں کر کے سمجھایا بلکہ ہر نبی اپنے وقت کے بزرگوں کو سمجھاتا رہا۔بچپن سے ہی وہ یہ اسلوب رکھتا ہے کہ وہ بڑوں کو بھی سمجھاتا ہے، چھوٹوں کو بھی سمجھاتا ہے۔سمجھانے کے معاملے میں عمر کا تفاوت کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔پس بعض دفعہ تو بچے کا سمجھانا زیادہ طور پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے آپ کے ہاں ہماری جماعت میں جتنے بچے ہیں اُن کو بھی اس جہاد کا علم اپنے ہاتھوں میں تھام لینا چاہئے اور اپنے گھر میں اپنے بڑوں کو جب وہ جھوٹ بولتا دیکھیں تو اُن کو ٹوکیں، انکو کہیں کہ یہ بہت بُری بات ہے، اسلام کے خلاف ہے، قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے، انبیاء کی سنت