سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 1
1 $1982 کیا آپ اپنے بچوں کی اخلاقی ، روحانی تربیت اور انہیں حقیقی احمدی بنانے کے لئے پوری کوشش اور توجہ کے ساتھ دعا کرتے ہیں؟ خطبہ جمعہ 8 اکتوبر 1982ء) ایک اور بات یہ ہے کہ آپ کو امراء اور جماعت کے عہدیداران کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔امراء اور عہدیداران خلافت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔جو بالآخر ساری جماعت کی تنظیم کی ذمہ دار ہے۔چنانچہ اس نظام کے کارکنان کی حیثیت سے انہیں خلافت کے نظام سے بعض حقوق عطا کئے جاتے ہیں۔وہ اپنے مقام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔بعض اوقات کسی خاص عہدیدار کے حقوق نہ جانے یا نہ سمجھنے کی وجہ سے مسائل ابھرتے ہیں۔لوگوں کو نہ تو اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان عہد یداروں کے حقوق کا جنہیں بعض کا موں پر مقرر کیا گیا ہو۔چنانچہ یہ بہت اہم بات ہے کہ جماعت انگلستان ان سب دوستوں کو بتائے کہ عہد یداران کی کیا حدود ہیں۔ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں۔اور ان کی کیا حدود ہیں جن پر وہ بطور امیر ،صدر یا کسی اور حیثیت میں مقرر کئے گئے ہیں۔اگر آپ اپنے حقوق اور اپنے فرائض سے واضح طور پر آگاہ ہوں تو کسی کو غلط فہمی اور نا اتفاقی کے بیچ ہونے کی جرات نہیں ہوسکتی۔ان چیزوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ جہالت ہے۔جہالت اور تاریکی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔علم روشنی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے روشنی پھیلانی چاہئے۔تا کہ ہر شخص راستہ دیکھ سکے۔اس صورت میں ان باتوں کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ بصارت درست ہو تو پھر انسان دوسرے لوگوں سے ٹکرا تا نہیں پھرتا، ماسوا جنگلی انسانوں کے۔ایسا ہوتا تو ہے مگر بہت کم۔نارمل ذہن رکھنے والے افراد ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے ٹکراتے نہیں پھرتے۔چنانچہ ساری جماعت کو احمدیت کی روایات کے مطابق اپنے حقوق سے بھی آگاہ ہونا چاہئے اور نظام میں اپنے سے بالا افراد کے حقوق سے بھی۔یہاں میں نے بالا افراد کا لفظ بولا ہے۔میری مراد اس سے انتظامی طور پر بالا افراد سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو بعض افراد انتظامی طور پر بالا افراد سے کہیں زیادہ بلند ہونگے۔کیونکہ یہ تو دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کا معاملہ ہے کہ کون دراصل بلند مقام پر فائز ہے۔تو میں صرف انتظامی طور پر بالا افراد کا ذکر کر رہا ہوں۔