سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 2

2 اب میں یہاں پر بعض حقوق کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ اگر کسی امیر نے غلطی سے آپ کو کوئی غلط حکم دے دیا ہے اور اگر وہ حکم قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں آپ کو اسکی اطاعت کرنی ہے۔جیسا میں نے واضح کر دیا ہے اگر وہ حکم قرآن کریم کی تعلیمات کے منافی نہیں تو پھر آپ پر اطاعت فرض ہے۔اور اگر کسی آیت قرآنی کی تفسیر میں اختلاف بھی ہو تب بھی آپ نے بات ماننی ہے۔کیونکہ یہ آپ کا کام نہیں کہ اسکی تاویل ڈھونڈ کر امیر کی اطاعت نہ کرنے کا بہانہ تلاش کریں۔" (خطبات طاہر جلد اول صفحہ 189-190) انصار اللہ سمیت تمام تنظیمیں جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے گھروں اور ماحول میں خوبصورتی پیدا کریں (خطبہ جمعہ 29 اکتوبر 1982ء) گھروں کے سلسلہ میں ایک چھوٹی سی بات میں بہر حال کرنا چاہتا ہوں۔ویسے تو سارے گھر جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں خدا تعالیٰ کے گھر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بعض دفعہ یہ بھی مطالبے کرتا ہے اور یاد کرواتا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی کرواتا۔جب مومن کے گھر میں کوئی مہمان آتا ہے اور وہ اپنے منہ ملاحظہ کی بجائے خدا کی خاطر اس کو جگہ دیتا ہے تو اس وقت وہ ثابت کرتا ہے کہ ہاں میرا گھر خدا کا گھر ہے۔تو یہاں آکر وہ دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ہماری ہر چیز پھر خدا کی ہو جاتی ہے۔امتحان کے بعض ایسے ہی دن آنے والے ہیں یعنی جلسہ سالانہ۔اس موقع پر آکر حقیقت میں ربوہ کے سارے گھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر بن جاتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سارے گھر اللہ کے گھر ہو جاتے ہیں۔اس لیے خوب دل کھول کر اپنے گھر نظام جلسہ کو پیش کریں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر یہ ظاہر کریں کہ مجبورا تو ہم نے مَالِكِ يَوْمِ الدِّين کے حضور پہنچنا ہی ہے اس سے تو ہمیں کوئی مفر نہیں، لازما جانا ہے۔اگر اس دنیا میں بھی خدا کو طوعاً ملك يوم الدين (سورة فاتحہ : 4) تسلیم کر لیں گے تو قیامت کے دن اس کی مالکیت سے زیادہ حصہ پائیں گے اور زیادہ رحم کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔پس اس پہلو سے ربوہ والے اپنے گھروں کو خوب بشاشت کے ساتھ پیش کریں۔پہلے بھی کرتے ہیں اس دفعہ اور بھی زیادہ محبت کے ساتھ پیش کریں اور کارکنان بھی اپنی ساری طاقتوں کو مالک یوم الدین کے حضور پیش کر دیں۔بے شمار کام ہوتے ہیں اور جو اس وقت ہمارے پاس عملہ مہیا ہے وہ اتنا تھوڑا ہے کہ حقیقت