سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 118

118 عدالت میں دو دعویدار ماؤں کا جھگڑا پہنچا۔جن کے پاس ایک ہی بچہ تھا بھی ایک گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی کبھی دوسری گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی اور دونوں روتی تھیں اور شور مچاتی تھیں کہ یہ میرا بچہ ہے۔کسی صاحب فہم کو سمجھ نہیں آئی کہ اس مسئلہ کو کیسے طے کیا جائے۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو بڑا مشکل ہے طے کرنا کہ کس کا بچہ ہے۔اگر ایک کا بچہ ہوا اور دوسری کو دے دیا گیا تو بڑا ظلم ہوگا اس لئے کیوں نہ اس بچے کو دوٹکڑے کر دیا جائے اور آدھا ٹکڑا ایک کو دے دیا جائے اور آدھا ٹکڑا دوسرے کو دے دیا جائے تا کہ نا انصافی نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے جلاد سے کہا کہ آؤ اور اس بچے کو عین بیچ سے نصف سے دوٹکڑے کر کے ایک ایک کو دے دو، دوسرا دوسری کو دے دو۔جو ماں تھی روتی چیختی ہوئی بچے کے اوپر گر پڑی کہ میرے ٹکڑے کر دو یہ بچہ اس کو دے دو لیکن خدا کے لئے اس بچے کو کوئی گزند نہ پہنچے۔اُس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ اس کا بچہ ہے۔پس جو خدا کی خاطر جماعت سے محبت رکھتا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے دے اور ایسی باتیں برداشت کر جائے کہ جس کے نتیجے میں کسی کے ایمان کو گزند پہنچتا ہو۔وہ اپنی جان پر سب وبال لے لے گا اور یہی اُس کی سچائی کی علامت ہے لیکن اپنی تکلیف کو دوسرے کی روح کو زخمی کرنے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔تو واقفین میں اس تربیت کی غیر معمولی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک دفعہ واقعہ نہیں ہوا، دو دفعہ نہیں ہوا بیسیوں مرتبہ پہلے ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض دفعہ بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں اور ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نے خوب چالا کی کی ہے خوب انتقام لیا ہے۔اس طرح تحریک جدید نے مجھ سے کیا اور اس طرح پھر میں نے اُس کا جواب دیا۔اب دیکھ لو میرے پیچھے کتنا بڑا گر وہ ہے اور یہ نہیں سوچا وہ گروہ اُس کے پیچھے نہیں تھا وہ شیطان کے پیچھے تھا۔وہ بجائے متقیوں کا امام بنے کے وہ منافقین کا امام بن گیا ہے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی ہلاک کیا۔پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سہی لیکن غیر معمولی نتائج پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔بچپن سے ہی اپنے واقفین نو کو یہ باتیں سمجھا ئیں اور پیار اور محبت سے اُن کی تربیت کریں تا کہ وہ آئندہ صدی کی عظیم لیڈرشپ کے اہل بن سکیں۔بہت سی باتوں میں سے اب وقت تھوڑا ہے کیونکہ میں نے سفر پہ بھی جانا ہے۔واقف زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے ایک بات میں آخر یہ یہ کہنی چاہتا ہوں ان کو وفا سکھائیں۔وقف زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے۔وہ واقف زندگی جو وفا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف سے نہیں چمٹتا وہ جب الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اُس کو سزا دے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غداری کا داغ لگا لیتا ہے اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔اس لئے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اپنے بچوں کو وقف کرنے کا یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اس فیصلے کے نتیجے میں یا تو یہ بچے