سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 119

119 عظیم اولیاء بنیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گے اور ان کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہے۔جتنی بلندی ہو اتنا ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی تو بڑھ جایا کرتا ہے۔اس لئے بہت احتیاط سے ان کی تربیت کریں اور ان کو وفا کے سبق دیں۔بار بار سبق دیں۔بعض دفعہ واقفین ایسے ہیں جو وقف چھوڑتے ہیں اور اپنی طرف سے چالا کی کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہم جماعت کی حد سے باہر نکل گئے ، اب ہم آزاد ہو گئے اور اب ہمارا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔وہ چالا کی تو ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہوتی۔وہ چالا کی سے اپنا نقصان کرنے والے ہوتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایک ایسے واقف کا معاملہ آیا جس کی ایسے ملک میں تقرری تھی اگر وہاں ایک معین عرصہ تک وہ رہے تو وہاں کی نیشنیلٹی کا حقدار بن جاتا تھا اور بعض وجوہات سے میں نے اُس کا تبادلہ ضروری سمجھا۔چنانچہ جب میں نے اُس کا تبادلہ کیا تو چھ یا سات ماہ ابھی باقی تھے یعنی اُس مدت میں باقی تھے جس کے بعد وہ حقدار بنتا تھا۔اُس کے بڑے لجاجت سے اور محبت اور خلوص کے خط آنے شروع ہوئے کہ مجھے کچھ مزید مہلت دے دی جائے یہاں قیام کی اور میں نے وہ مہلت دے دی۔بعض صاحب فہم لوگوں نے یہ سمجھا کہ وہ مجھے بیوقوف بنا گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے لکھا کہ جناب یہ تو چالا کی کر گیا ہے آپ کے ساتھ اور یہ تو چاہتا ہے کہ عرصہ پورا ہو اور پھر آزاد ہو جائے وقف سے پھر اس کو پر واہ کوئی نہ رہے۔تو میں نے اُن کو بتایا یا لکھا کہ مجھے سب پتا ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ کیوں یہ ایسا کر رہا ہے لیکن وہ میرے ساتھ چالا کی نہیں کر رہا وہ اپنے نفس کے ساتھ چالا کی کر رہا ہے۔وہ اُن لوگوں میں ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (البقرہ:10) اس لئے میں اس کی ڈور ڈھیلی چھوڑ رہا ہوں تا کہ یہ جو مجھے فطن ہے اور آپ کو بھی ہے یہ کہیں بدظنی نہ ہو۔اگر وہ اس قسم کا ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں اور جیسا مجھے بھی گمان ہے تو پھر وقف میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔تو بجائے اس کے کہ بدظنی کے نتیجے میں یعنی اس ظن کے نتیجے میں جو بدظنی بھی ہوسکتی ہے اگر یہ ظن غلط ہو تو بدظنی ہے۔ہم اُس کو بدلتے پھریں اور اُس کو بچاتے پھریں۔اُس کو موقع ملنا چاہئے۔چنانچہ وہ حیران رہ گیا کہ میں نے اُس کو اجازت دے دی ہے۔پھر اُس نے کہا اب مزید اتنا مجھے مل جائے تو پھر اتنا روپیہ بھی مجھے مل جائے گا۔میں نے کہا وہ بھی تم لے لو بے شک اور جب وہ واپس گیا تو اُس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔کیسی بیوقوفوں والی چالا کی ہے۔وہ بظاہر سمجھ کی بات جو تقویٰ سے خالی ہوا کرتی ہے اُس کو ہم عام دنیا میں چالا کی کہتے ہیں۔بچوں کو چالا کیوں سے بچائیں پس اپنے بچوں کو سطحی چالاکیوں سے بھی بچائیں۔بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور ان کو عادت پڑ جاتی ہے۔وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالاکیوں سے کام لیتے رہتے