سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 82

82 کے طریقے جاننے والا ہوگا اور خدا کے فضل سے عملاً ایک اچھی نسل پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہوگا لیکن چونکہ بہت سے دوست بدقسمتی سے ان علمی، روحانی ، نفسیاتی سفروں کے قابل نہیں ہوتے ، قابل تو خدا نے سب بنائے ہیں لیکن عادت نہیں پڑی اور غالبا یہ بچپن ہی کا خلا ہے۔پہلے سات سال یا چھوٹی عمر میں ان کا ذہن دوسری طرف مائل رہا سطحی چیزوں کی طرف مائل رہا۔مثلاً آج کل جو ٹیلیویژن دیکھنے والے جو بچے ہیں ان کا دماغ اس دنیا کی بجائے Space میں زیادہ رہتا ہے۔فرضی جن ، فرضی کائنات کے مالک اور قابض لوگ اور فرضی ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کرنے والے۔اس قسم کی چیزوں میں وہ بسنے لگ گئے ہیں۔روز مرہ کے انسانی مسائل سے ان کو الگ کر دیا گیا ہے۔شاذونادر بچوں کا کوئی پروگرام دیکھیں گے جن میں انسانی ہمدردی سے تعلق رکھنے والے، انسانی برائیوں سے تعلق رکھنے والے انسانی خوبیوں سے تعلق رکھنے والے، پروگرام اس طرز سے دیئے گئے ہوں کہ بچے کو برائیوں سے نفرت اور خوبیوں سے پیار ہونے لگے۔سکول کے سلیبسز میں بھی اس قسم کی نہایت ہی خوفناک تبدیلیاں آچکی ہیں۔بچوں کی تربیت پر کتب لکھنے کے لئے تمام تنظیمیں اپنے Pool بنا ئیں اس پہلو سے بھی دیکھیں تو جماعت کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔بہت باشعور مربیوں کی ضرورت ہے اور چونکہ عملاً واقعہ ایسا ہونا فوری طور پر ممکن نظر نہیں آرہا۔جب سچائی کی نظر سے دیکھیں تو اکثر دوستوں کو بدقسمتی سے اس سے محروم پاتے ہیں۔اس لئے ان لوگوں کی تربیت کے لئے یعنی ہر فرد بشر کی تربیت کے لئے نظام جماعت کو یہ کام اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے۔ان میں باشعور لوگ بھی ہوں گے ، ان میں اچھی اور دلچسپ سو چھیں رکھنے والے لوگ بھی ہوں گے۔ہر قسم کی عورتیں بھی ملیں گی ، ہرقسم کے مرد بھی ملیں گے۔تو اپنی اپنی تنظیم کے Pool بنا ئیں ان کے خیالات، ان کے تجارب کا۔وہ کتا بیں بھی لکھیں لیکن پیش نظر ماں باپ ہوں اور ماں باپ پیش نظر ہوں خاص عمر کے بچوں کی خاطر۔اس نقطہ نگاہ سے آپ کوشش کریں اور جن ماں باپ تک میری بات ویسے ہی براہ راست پہنچ رہی ہے ان کو انفرادی طور پر بھی اپنی ذمہ داری کو قبول کرنی چاہئے اور بیدار رہنا چاہئے کیونکہ یہ وہ معاملہ ہے جس میں تنظیمیں کوشش تو ضرور کریں گی آپ کی مدد کی لیکن تنظیموں سے نہیں پوچھا جائے گا۔آپ سے پوچھا جائے گا اس عمر کے بچوں پر جو نقش آپ نے مرتسم کر دیئے اگر وہ جہنم میں لے جانے والے نقش ہیں تو بچوں ہی سے نہیں آپ سے بھی پوچھا جائے گا اور اگر ایسے نقش مرتسم کر دیئے جو جنت میں رہنے والوں کے نقوش ہوتے ہیں تو آپ بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ آپ کی اولاد در اولاد در اولاد کی نیکیاں بھی آپ کے نام پر ہمیشہ لکھی جائیں گی جو آپ کے درجات کی بلندی کا موجب بنتی رہیں گی۔" خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 836-848)