سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 79
79 بچوں کی تربیت میں اسلام کا نظام بہت گہرا اور متحلم ہے پس اسلام کا نظام ایک بہت ہی گہرا اور مستحکم نظام ہے اس میں خلا کوئی نہیں ہے لیکن ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اور معین کی گئی ہیں۔اس لئے جہاں تک اس ضرورت کا تعلق ہے جو ہمارے اس مخلص دوست کو محسوس ہوئی ہے اس سے ایک ذرہ کا بھی مجھے اختلاف نہیں۔ہاں جو طرز ان کے ذہن میں ابھری اس سے مجھے اختلاف ہے جس کے دلائل میں نے بیان کئے کہ کیوں اختلاف ہے۔لیکن میں ماں باپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً ایسے علاقوں میں بسنے والے ماں باپ پر جیسے یہ علاقہ ہے جہاں ہم آج کل بس رہے ہیں اور آج کل زندگی کے دن گزار رہے ہیں ، جیسے یورپ کی اور ریاستیں ہیں، جیسے مشرق بعید کی بعض ریاستیں ہیں جیسے ہندوستان کے بعض علاقے ہیں۔ان سب علاقوں میں غیر معمولی طور پر غیر اسلامی قدریں غالب ہیں۔سکول جانے کی بچے کی جو عمر ہے وہ سات سال سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور اس عمر میں جو نہایت ہی حساس عمر ہے یعنی چار سال یا ساڑھے چار سے لے کر سات سال کا زمانہ یہ خصوصیت کے ساتھ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔جو بچے وہاں ننگے بچوں کو کھیلتے دیکھتے ہیں جنگی لڑکیوں کو نہاتے دیکھتے ہیں اور اس قسم کی بہت سی حرکتیں ناچ گانے۔آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بچے ہیں ان کے اوپر بہت ہی گہرے اثرات مترتب ہورہے ہیں اور بعض دفعہ اس رنگ میں احساسات ان کے ذہنوں کے نقش و نگار بن رہے ہوتے ہیں کہ بعد میں آپ کھرچنے کی کوشش کریں تو زندگی کھرچی جاسکتی ہے مگر وہ نقش و نگار نہیں کھرچے جاسکتے ہیں۔مستقلاً انکے نفسیاتی وجود کا ایک حصہ بن چکے ہوتے ہیں جس طرح کسی سانچے میں کوئی چیز پگھلی ہوئی ڈال دی جائے جب وہ جم جائے گی تو پھر توڑی جاسکتی ہے پھر وہ ڈھالی تو نہیں جاسکتی۔اس لئے نہایت ہی اہم دور ہے اس دور میں ماں باپ کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ وہ ایسے بداثرات کے مقابل پر بالا رادہ نیک اثرات پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس میں ان کے لئے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر ان کو خود عمل کرنا پڑے گا۔اپنی زندگی کی نہج بدلے بغیر وہ اس عمر میں بچے پر نیک اثر نہیں ڈال سکتے۔وہ سنے سے زیادہ دیکھ کر اثرات قبول کر رہا ہے۔سن کر بھی کرتا ہے تو لاشعوری طور پر کر رہا ہے۔سمجھ کر نہیں کر رہا طبعا فطرتا جس کو Instinct کہتے ہیں Instinct کے ذریعہ جو چیز اس کو اچھی لگ رہی ہے وہ اسے قبول کر رہا ہے اور Instinct کے ذریعہ جو چیز سے بری لگ رہی ہے وہ اس سے دور ہٹ رہا ہے۔کھانے کے معاملہ میں آپ دیکھ لیں اس عمر میں آپ بچے کو لاکھ کوشش کریں گے کہ یہ چیز اچھی ہے یہ کھاؤ وہ کہے گا کہ نہیں مجھے نہیں اچھی لگتی لیکن جب وہ سات سال یا اس سے بڑا ہو جائے یا کم و بیش اس عمر کو پہنچے تو پھر وہ بات کو سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں میں کوشش کرتا ہوں اور کچھ دیر کوشش کے بعد اس کو اچھی بھی لگنے لگ جاتی ہے بعض بیوقوف مائیں جو چیز ان کے نزدیک اچھی ہوتی ہیں وہ بچے کو مار مار کے کھلا رہی ہوتی ہیں یہ سوچ ہی نہیں سکتیں کہ یہ