سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 80
80 بہت بھیانک حرکت ہے۔بعض دفعہ اس سے ہمیشہ کے لئے نفرت پیدا ہو جاتی ہے بعض دفعہ نفسیاتی بیماریاں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے ہرگز کبھی ایسی حرکت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔تو زبردستی کی عمر بہر حال نہیں، پیار کی عمر ہے اور پیار کی عمر بھی ایسی کہ دلکشی کی عمر ہے اگر آپ دلکشی کے ذریعہ سے اس بچے کی فطرت پر اثر انداز ہوں گے تو بچہ اثر کو قبول کرے گا۔بھیا نک بن کر آپ اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔طوعا و کرها دو ہی پہلو ہیں۔اسکو بھیانک بنیں تو دور بھاگے گا ہر اس قدر سے جس کے لئے آپ بھیا نک بن کر کوشش کرتے ہیں اس میں آپ نا کام ہو جائیں گے اور دور بھاگے گا۔اس چیز سے جس کی طرف آپ اس کو لانا چاہتے ہیں اس کو پیار ہونا ضروری ہے اور وہ دلکشی سے ہوسکتا ہے زبر دستی کا پیار بھی ممکن ہی نہیں ہے۔اس کے لئے ماں باپ کو بڑی ذہانت کے ساتھ اور بیدار مغزی کے ساتھ اپنے بچوں میں اس عمر میں دلچسپی لینی چاہئے۔اگر نماز کی محبت پیدا کرنی ہے تو اگر اپنے ماں باپ کو سج دھج کر با قاعدہ پیار کے ساتھ ، سلیقہ کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھیں گے تو شروع میں ہی بیشتر اس کے کہ وہ سکول جانے لگیں ان کے دل میں نماز کی محبت پیدا ہو چکی ہوگی اگر بعض اور آداب دیکھیں گے تو ان کے دل میں بھی ان کا پیار پیدا ہو چکا ہوگا۔ٹیلیویژن کے پروگرام ہیں ان کے متعلق بہت سی باتیں کہنے والی ہیں وہ بعد میں کسی وقت انشاء اللہ وقت ملا تو کہوں گا۔لیکن اس میں بھی اختیار کی باتیں ہیں شروع میں چھوٹی عمر میں آپ ان کو ٹیلیویژن سے نوچ کرا لگ تو پھینک نہیں سکتے لیکن کس حد تک ٹیلیویژن دیکھنے دینا ہے، کیا دیکھنا ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر کیا تبصرے کرنے ہیں۔کس طرح فطرتا آہستہ آہستہ بعض اچھی چیزوں کا پیار بڑھانا ہے بعض بُری چیزوں سے روکنا ہے۔یہ تو ایک بہت ہی گہرا حکمت کا کام ہے بڑی جان سوزی بھی چاہتا ہے اور دماغ سوزی چاہتا ہے اور ان سارے امور میں قرآن کریم اور سنت نبوی نے ہمارے لئے راستے روشن کئے ہوئے ہیں۔کوئی ایک بھی راستہ ایسا نہیں ہے ایک بھی ڈنڈی ایسی نہیں جس پر آپ قدم رکھنا چاہیں اور اندھیرے آپ کو ڈرائیں اگر آپ نے قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا ہو کیونکہ جہاں بھی اور جس ڈنڈی پر بھی آپ قدم رکھنا چاہیں گے وہاں قرآن اور سنت کی کوئی نہ کوئی مشعل روشن ہوگی وہ آپ کی رہنمائی کر رہی ہوگی۔بچوں کی تربیت کے لئے ماں، باپ کی تربیت ضروری ہے تو اس لئے میں نے یہ سوچا کہ چونکہ بہت سے ماں باپ بلکہ اکثر ماں باپ ان باتوں میں خود نا بلد ہیں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے اور اس بات کی اہلیت نہیں رکھتے اور بچوں کی تربیت ہم براہ راست کر نہیں سکتے اس لئے اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس عمر کے بچوں کی تربیت کے لئے ماں باپ کی تربیت کی جائے اور اس کے لئے یہ کام ہم تنظیموں کے سپرد کر سکتے ہیں۔یہ پروگرام انصار اپنے ہاتھ میں لیں، خدام اپنے ہاتھ میں لیں اور لجنات اپنے ہاتھ میں لیں۔ان کا کام یہ نہیں ہے کہ بچوں کے معاملہ میں والدین کے کام میں براہ راست