سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 73

73 تحریک کے خلاف جماعت احمدیہ نے انشاء اللہ تعالیٰ مقابلہ کرنا ہے اور باقی ساری دنیا کی جماعتیں جس طرح دعاؤں کے ذریعہ پاکستانی جماعتوں کی مدد کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سہارے ان کو اپنی دعاؤں کے ذریعہ مہیا کرنے میں اپنی پوری سعی کر رہی ہیں اور ہم ان دعاؤں کے اثرات دیکھ بھی رہے ہیں۔خدا کے فضل تو ویسے بھی نازل ہونے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ ایک عجیب خاص بندے سے پیار کا سلوک ہے کہ جب ان کاموں میں بھی جن کاموں میں خدا نے بہر حال یہ فیصلے کئے ہوتے ہیں کہ میں ان کو کر کے رہوں گا ان کاموں میں بھی بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! میں بھی چاہتا ہوں کہ یہ ہو جائے تو وہ اور زیادہ شان کے ساتھ ان کاموں کو کرتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ ہاں میں نے تیری آواز کو بھی سنا تیری کوشش کا بھی دخل ہو گیا ہے۔جب آپ دھکیل رہے ہوتے ہیں کا رکو تو ایک کمزور اور نا تو ان آدمی اور لنگڑا بھی ہو بے چارہ وہ بھی اگر ہاتھ لگادے تو لوگ یہ تو نہیں کہا کرتے کہ جاؤ بھا گو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔اگر شرافت ہو، اگر حیاء ہو تو کہتے ہیں ہاں ہاں ہم تمہیں جگہ دیتے ہیں آؤ تم بھی شامل ہو اور تحسین سے اسکو دیکھتے ہیں۔اللہ تو سب شکریہ ادا کرنے والوں سے زیادہ شکر یہ ادا کرنے والا ہے۔ہر خدمت کرنے والے کو زیادہ احسان مندی کی نگاہ سے دیکھنے والا ہے۔" خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 567-568) ذیلی تنظیمیں بچوں کی تربیت کی خاطر ماں باپ کی تربیت کا بھی اہتمام کریں خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1986 ء) اس خطبہ کے لئے جس کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوں میرا ارادہ تھا کہ تربیتی مضمون اختیار کروں کیونکہ بار بار بعض تربیتی پہلو ایسے ہیں جن کا جماعت کو بتانا اور اس کی یاد دہانی کروانا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے مضامین میں چنتا ہوں اور پھر کوشش کرتا ہوں کہ ان کے کچھ پہلوؤں پر اچھی طرح روشنی ڈالوں۔کچھ پہلو بچ جاتے ہیں پھر ان کو میں آئندہ کے لئے اٹھارکھتا ہوں اور وقتی ضروریات کے خطبے بھی بیچ میں آتے رہتے ہیں۔بہر حال اس مرتبہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ تربیت سے متعلق جو عمومی رنگ ہے اس کے او پر میں کچھ بیان کروں گا لیکن اس عرصہ میں پشاور سے ہمارے ایک احمدی مخلص دوست جو خود احمدی ہوئے ہیں۔جوانی سے ذرا آگے بڑھ کر درمیان کی جو عمر ہے اس میں اور بڑا عملی ذوق رکھتے ہیں نفسیات ان کا مضمون رہا ہے، جماعتی دینی معاملات میں سوچ بچار پر ان کے نفسیات کے مضمون کا بھی اثر پڑتا رہتا ہے ان کی طرف سے ایک ایسے ہی مضمون سے متعلق خطبہ دینے کے لئے یا جماعت کو عمومی نصیحت کرنے کے لئے مجھے متوجہ