سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 58
58 خلاف بھی سازش کریں ہر قسم کی اور جماعت کے وجود جماعت کی تنظیم کے خلاف سازش کریں۔جہاں تک ان کا بس چلے گا انہوں نے کسی انصاف کے تقاضے کوملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے ساتھ کوئی رحم کا سلوک نہیں کرنا۔جہاں تک ان کا بس چلے گا انہوں نے ہر انسانی حقوق سے جماعت احمدیہ کو سے محروم کرنے کی مزید کوششیں کرنی ہیں اور یہ سلسلہ آگے تک بڑھانے کا ان کا ارادہ ہے، کہاں تک بات پہنچے گی یہ بھی تفصیل میں بیان نہیں کرتا لیکن مجھے علم ہے کہ ان کے ارادے کیا ہیں اس لئے میں جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھ لیا کریں ہر دفعہ کہ ایک ظلم کے بعد ان کے دل ٹھنڈے پڑ چکے ہوں گے۔وہ یہ نہ سمجھ لیا کریں کہ ہر دفعہ ایک ستم کے بعد یہ راضی ہو جائیں گے کہ بس اب کافی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جتنا ظلم کرتے چلے جائیں گے اتنا زیادہ یہ آپ سے خوف محسوس کریں گے۔جتنا یہ ظلم کرتے چلے جائیں گے اتنی بیقراری بھی ان کی بڑھتی چلی جائے گی ، بے چینی بھی بڑھتی چلی جائے گی کہ یہ ایک منظم جماعت ہے ہم اس سے بے خوف اب نہیں رہ سکتے اس لئے مزید آگے بڑھیں گے اور چونکہ جماعت صبر اور شکر کے مقام پر فائز ہے اور ان کے سامنے سر جھکانے پر کسی قیمت پر بھی آمادہ نہیں ہے اس لئے اور بھی زیادہ ان کا غیظ و غضب بڑھتا چلا جائے گا۔یہ مزید تکلیف محسوس کریں گے کہ ہم نے تو ان کو اتنا دکھ پہنچایا ہے لیکن آگے سے ان لوگوں کا سر ہی نہیں جھک رہا، یہ اسی طرح سر بلند کر کے پھر رہے ہیں گلیوں میں اسی طرح ان کو کامل یقین ہے اپنے خدا پر اسی طرح یہ آسمان کی طرف سے نصرت آنے کے انتظار میں آنکھیں لگائے بیٹھے ہیں۔کیوں ان کے ایمان پر حملہ نہیں کر سکے؟ کیوں ان کے عزم کو ہم تباہ نہیں کر سکے؟ کیوں ان کے ولولے ہم نہیں مٹا سکے؟ کیوں آج بھی یہ زندہ ہیں انسانی قدروں کے ساتھ بلکہ ہم سے بہتر انسانی قدروں کے ساتھ یہ زندہ ہیں؟ یہ بات جوں جوں وقت گزرتا چلا جارہا ہے ان کو تکلیف دیتی چلی جارہی ہے اور اسی بد بخت بہو کی طرح جس نے اپنے خاوند سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اپنی ماں کا سر کاٹ کر جب تک نہ دکھاؤ اس وقت تک میں راضی نہیں ہوں گی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جب تک انتہا نہ کر گزریں گے اس وقت تک جماعت احمد یہ ذلیل و رسوا نہیں ہوسکتی۔اس وقت تک ہمارے دل کو چین نصیب نہیں ہو سکتا اس لئے اپنے شیاطین کی طرف یہ جاتے ہیں اور مزید بڑے سے بڑے مطالبے اور سے اور مطالبے کرنے شروع کر دیتے ہیں۔کہ نہیں ابھی ہمارا دل راضی نہیں ہوا۔اب یہ کام اور کرگز روتو ہم راضی ہوں گے، اب یہ کام اور کر دو پھر ہم راضی ہوں گے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے ہاتھ باندھ بھی دیں ، جماعت احمدیہ کو کلیتہ نہتا بھی کردیں تب بھی خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ ہی جیتے گی کیونکہ خدا کے شیروں کے ہاتھ کبھی کوئی دنیا میں باندھ نہیں سکا۔یہ زنجیریں لاز ماٹوٹیں گی اور لا ز ما ی زنجیریں باندھنے والے خود گرفتار کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے جسے دنیا میں کوئی بدل نہیں سکتا، کبھی خدا کے ہاتھ بھی کسی نے باندھے ہیں؟ اس لئے خدا والوں کے جب ہاتھ باندھے جاتے ہیں تو عملاً یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم