سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 49

49 انصار کو بچوں کی تربیت میں بہت محنت کرنی پڑے گی پس ہمیں بھی اپنے گھروں میں یہی اسوہ زندہ کرنا پڑے گا۔مرد اپنی بیو یوں کو نماز کا پابند کر یں اور ان سے یہ توقع رکھیں کہ جب وہ خود گھر پر نہ ہوں تو عورتیں ان کے نائب کے طور پر بچوں کی نمازوں کی حفاظت کریں گی۔اگر گھروں میں نمازوں کی فیکٹریاں نہ بنیں تو پھر جماعتی تنظیم کی کوششیں پوری طرح کارآمد نہیں ہوسکتیں۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو ان بچوں کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے جن کے والدین نماز سے غافل ہوتے ہیں ہزار کوشش کے بعد ان کو وہ پھل ملتا ہے جو گھر میں والدین صرف چند کلمات کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں جب دیکھیں کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے تو بچے کو بتا ئیں اور نماز کیلئے کہیں چنانچہ لجنہ اماءاللہ کی طرف سے ماؤں کو تاکید ہونی چاہئے اور خاوندوں کی طرف سے بیویوں کو تاکید ہونی چاہئے کہ وہ اس کام میں مدد کریں اور اپنی اولاد کو بچانے کی کوشش کریں۔اگر ہم ساری دنیا میں یہ کام کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور احمدیوں کی بھاری اکثریت نماز پر اس طرح قائم ہو جائے کہ جہاں باجماعت نماز پڑھی جاسکتی ہے وہاں لازماً با جماعت نماز پڑھی جارہی ہو اور جہاں باجماعت نمازممکن نہ ہو وہاں انفرادی نماز کا انتظام ہو اس کو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے توجہ کے ساتھ اور سوز وگداز کے ساتھ ادا کیا جائے تو اسے اتنی بڑی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس جماعت کا مقابل نہیں کر سکیں گی کجا یہ کہ چند دھاگے اللہ تعالیٰ سے ملے ہوئے ہوں اور وہ جو طاقت حاصل کر رہے ہوں وہ ساری جماعت میں بٹ رہی ہو اور کجا یہ کہ ہر شجر کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوں اور ہر شجر کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے پھل لگ رہے ہوں۔بڑ کے درخت جب بوڑھے ہو جاتے ہیں۔تو ان میں سے بعض کی شاخیں زمین کی طرف جھک جاتی اور جڑیں بن جاتی ہیں اور ایک تنے کی بجائے کئی تنے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اسی طرح جماعت احمدیہ کو عبادت کے معاملے میں بڑ کا وہ درخت بن جانا چاہئے جس کی ہر شاخ سے جڑیں پھوٹ رہی ہوں اور زمین کی طرف جھک رہی ہوں اور براہ راست زمین سے طاقت لے کر آسمان کی رفعتوں میں اس طرح بلند ہو جائیں کہ ہر ایک کو ہمیشہ ہر حال میں اللہ کی رحمتوں کے الہامات کے کشوف کے اور وحی کے پھل لگ رہے ہوں اور ہر احمدی کو خدا کی تائید حاصل ہورہی ہو۔یہ ایک عظیم الشان طاقت ہے دنیا اس کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے۔یہ تو اتنی عظیم الشان طاقت ہے کہ نبی جب اکیلا ہوتا ہے تو اللہ سے تعلق کے نتیجہ میں اس کو غالب کیا جاتا ہے اور خدا سے بے تعلق دنیا کو اس ایک کی خاطر مٹادیا جاتا ہے کجا یہ کہ