سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 42

42 لگاتے اور کوشش کرتے ہیں تو نماز میں حاضری کا معیار بڑھ جاتا ہے۔پھر کچھ عرصے کے بعد نماز گر نے لگتی ہے۔پھر زور لگاتے ہیں تو معیار بڑھنے لگتا ہے اور بعض دنوں میں جب زیادہ توجہ دی جاتی ہے تو خدا کے فضل سے مسجدوں کے متعلق احساس ہوتا ہے کہ چھوٹی رہ گئی ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر خالی برتن کی طرح خلخل کرتے ہوئے چند نمازی رہ جاتے ہیں اور مسجد میں قریباً خالی اس لئے ہمیں اپنے نظام میں لازماً یہ بات داخل کرنی پڑے گی کہ سارا نظام بیدار ہو کر وقتا فوقتا نمازوں کی طرف توجہ دلائے ، ساری جماعت کو جھنجھوڑ دے اور بیدار کر دے اور اسے بتائے کہ نمازوں کے بغیر تم زندہ نہیں ہو اور نہ ہی زندہ رہ سکتے ہو تمہیں لا ز ما عبادتوں کو قائم کرنا پڑے گا ورنہ تمہاری ساری کوششیں بریکا ربے معنی اور لغو ہوں گی۔نظام جماعت نماز کی حفاظت کی ذمہ دار ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے آغاز خلافت ہی میں آج سے تقریباً چھ ماہ پہلے تمام انجمنوں کو جن میں مرکزی انجمنیں بھی شامل تھیں اور ذیلی انجمنیں بھی شامل تھیں، اکٹھا کر کے جو بنیادی ہدایت دی وہ یہ تھی کہ نماز کی حفاظت ، جس کے لئے جماعت احمد یہ قائم کی گئی ہے ہمارا اولین فرض ہے۔ہمارے سارے نظام اس مرکزی کوشش کیلئے غلامانہ حیثیت رکھتے ہیں۔اگر یہ نظام او پر آجائیں اور یہ آقا یعنی عبادت کا مقام نیچے ہو جائے تو معاملہ بالکل الٹ ہو جائیگا پھر تو ویسی ہی بات ہو جائے گی کہ کشتی نیچے چلی جائے اور پانی اوپر آ جائے۔وہی چیز جو بچانے کا موجب ہوتی ہے وہ تباہی کا موجب بن جاتی ہے۔حالانکہ پانی اور کشتی کا تعلق وہی رہتا ہے جوکشتی کے اوپر ہے وہ بھی پانی ہے اور جوکشتی کے نیچے ہے وہ بھی پانی ہے لیکن نسبت بدلنے سے نتیجہ الٹ نکل رہا ہے۔یعنی اوپر کا پانی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے اور وہی پانی جب نیچے ہو تو بچانے کا موجب بن جاتا ہے۔اس لئے نسبتوں کا درست ہونا ضروری ہے عبادت نظام جماعت کی غلام نہیں ہوگی بلکہ نظام عبادت کا غلام ہو گا ہم بھی زندہ رہیں گے جب نظام جماعت عبادت کا غلام ہوگا۔پس میں نے ان تمام انجمنوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے جتنے بھی کارکن ہیں ان کی طرف توجہ کریں ہر انجمن کے سربراہ کا فرض ہے، اسی طرح ہر شعبے کے انچارج کا یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ مرکزی نمائندگان سلسلہ اپنا حق اس رنگ میں ادا کر رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔تمام دنیا کی آنکھیں مرکز کی طرف لگی ہوئی ہیں اور مرکز میں بھی جو سلسلہ کے کارکنان ہیں وہ بڑے نمایاں طور پر لوگوں کی نظر کے سامنے نمونہ کے طور پر ہوتے ہیں۔اگر یہ لوگ بد اعمالیاں کریں تو ہلاکت کا موجب بن سکتے ہیں اور اگر نیک اعمال کریں تو ان کی نیکیاں عام انسانوں کی نیکیوں کے مقابل پر ان کو کئی گنا زیادہ ثواب پہنچاسکتی ہیں۔