سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 43

43 سلسلہ کے کارکنان کو نمازوں میں دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ ہونا چاہئے چنانچہ میں نے انہیں جو ہدایت دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ توجہ کریں میں آپ کو چھ مہینے دیتا ہوں بار بار نصیحت کے ذریعے کوشش کریں کہ تمام کارکنان نماز کے فریضے کی ادائیگی سے پیچھے نہ رہیں سوائے اس کے کہ کوئی بیماری کی وجہ سے مجبور ہو۔اسے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ٹانگوں کی بیماری ہے یا کمر کی تکلیف ہے یا اسی قسم کی اور کئی تکلیفیں ہوسکتی ہیں کہ انسان دفتر میں تو پہنچ جاتا ہے اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فرائض بھی ادا کر دیتا ہے لیکن باجماعت نماز کی توفیق نہیں پاسکتا۔اس لئے جہاں تک شرعی مجبوریوں کا تعلق ہے ہم ان میں دخل نہیں دے سکتے۔لیکن واضح اور یقینی شرعی مجبوریوں کے سوا سلسلے کے سارے کارکنان کو نمازوں میں پیش پیش ہونا چاہئے اور دوسرے لوگوں کیلئے نمونہ بننا چاہئے بہر حال میں نے ذمہ دار احباب سے کہا کہ چھ مہینے کے بعد آپ اپنے انتباہ میں نسبتا زیادہ سنجیدہ ہو جائیں اور کارکنوں کو بلا کر سمجھائیں اور کہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہم تمہیں نمازوں پر مجبور نہیں کر سکتے لیکن جبر نہ ہونے کے دو نقص ہیں۔اگر تم پر جبر نہیں تو جماعت احمدیہ پر کیا جبر ہے کہ وہ ضرور بے نمازیوں کو ملازم رکھے اس لئے دوطرفہ معاملہ چلے گا۔صرف تم آزاد نہیں ہو جماعتی نظام بھی آزاد ہے وہ آزاد ہے اس معاملے میں کہ جس قسم کے کارکن چاہے رکھے اور جس قسم کے چاہے نہ رکھے۔اس کو اختیار ہے اس لئے ہم تمہیں موقع دیتے ہیں کہ تم اپنی نمازیں درست کرو لیکن چونکہ تم آزاد ہو ، ہوسکتا ہے تم یہ فیصلہ نہ مانو۔ہم داروغہ نہیں ہیں داروغہ تو اصل میں خدا ہی ہے تم نے بھی اسی کے حضور پیش ہونا ہے اس لئے اگر تم یہ فیصلہ نہیں مان سکتے تو ہم تمہیں کوئی سزا نہیں دیں گے۔جزا سزا کا معاملہ اللہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن ہم بھی اس بات میں آزاد ہیں کہ تمہارے جیسے کارکنوں کو نہ رکھیں ہماری بعض مجبوریاں ہیں۔ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور ساری دنیا کے لئے نمونہ بنا ہے۔اگر عبادت سے غافل کارکن مرکز میں بیٹھے ہوں تو وہ دعائیں کرسکیں گے، نہ انکے اندر تقویٰ کا اعلیٰ معیار ہوگا اور نہ ہی وہ صحیح نمونہ بن سکیں گے، بلکہ جماعت کیلئے ہزار مصیبتیں کھڑی کرتے رہیں گے۔کجا یہ کہ سارے مرکزی کارکنان عبادتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ان کے مجموعی تقویٰ کے نتیجے میں ایک زبر دست طاقت پیدا ہو اور کجا یہ کہ چند آدمی باقی تمام کارکنوں کا حق ادا کر رہے ہوں اور اکثریت غافل ہو اور جماعت پر بوجھ بنی ہوئی ہو۔نمازوں میں سست کارکنان فیصلہ کر لیں اس پہلو سے چھ مہینے کے بعد ذمہ دار افسران نے نماز سے غافل کا رکنوں کو وارننگ دینی تھی لیکن میں خاموشی سے دیکھتا رہا میرے نزدیک اس کام میں غفلت کی گئی ہے اس لئے سال کے بعد پکڑنے کی بجائے ابھی جو تین مہینے باقی ہیں ان میں ایسے کارکن فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے سلسلہ کی ملازمت کرنی ہے یا