سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 41
41 نہیں پڑھتے۔اس طرح نماز کے بنیادی مقصد یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے محروم رہ جاتے ہیں۔اور جو خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کی قطعی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں سے بھی کٹ جاتے ہیں جو خدا کے حقوق ادا نہیں کرتے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے حقوق ادا کر سکیں۔چنانچہ فرمایا۔وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُون کہ یہ لوگ اتنے خسیس ، اتنے کم ظرف ہو جاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی معمولی معمولی ضرورتیں پوری کرنے سے بھی گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کی حالت یہاں تک ہو جاتی ہے کہ اگر ان کے ہمسائے نے آگ مانگی ہے تو اس سے انکو تکلیف پہنچتی ہے یا تھوڑی دیر کے لئے مثلاً ایک ہنڈیا طلب کی ہے تو اس سے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔يَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ خود بھی منع رہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے بچوں کو اور اپنے ماحول کو بھی کہتے ہیں کہ اس نے یہ کیا رٹ لگارکھی ہے، ہمسائی بار بار مصیبت ڈالتی رہتی ہے کہ فلاں چیز دو اور فلاں بھی دو، اس کو یہ چیز ہرگز نہیں دینی۔نماز اور عبادت کا خلاصہ پس نماز اور عبادت کا خلاصہ یہ بیان فرمایا کہ اس کے بغیر نہ اللہ سے تعلق قائم ہوتا ہے ، نہ اس کی مخلوق سے اسی لئے بنی نوع انسان کے حقوق کا ذکر عبادت کے بعد کیا جو بیشتر حد تک مِمَّا رَزَقْنهُمُ يُنفِقُونَ کی ذیل میں آجاتے ہیں بلکہ اگر اس کی وہ تعریف کی جائے جو حضر مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے تو بیشتر کالفظ کمزور ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کے ہر قسم کے حقوق مِمَّا رَزَقْنَاهُمُ يُنفِقُونَ کے تابع ادا ہوتے ہیں۔اس کو عبادت کے بعد رکھا ہے اور یہ ترتیب بتارہی ہے کہ دراصل عبادت ہی کے نتیجے میں بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔پیں جہاں تک اعمال کا تعلق ہے مذہب کا خلاصہ عبادت پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔غیب کا معاملہ تو ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے اور ایمان نہ ہو تو عبادت کی توفیق بھی نہیں مل سکتی۔یہ درست ہے لیکن جہاں تک اعمال کا تعلق ہے انکا خلاصہ نماز ہے۔نماز قائم ہو تو حقوق اللہ بھی ادا ہوں گے اور حقوق العباد بھی ادا ہوں گے۔لیکن اگر یہ نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔تقویٰ کا خلاصہ بھی نماز بیان فرمایا گیا ہے۔تقویٰ کی جو تعریف بیان فرمائی اس کا خلاصہ اگر نماز ہے تو متقیوں کی زندگی کا خلاصہ بھی نماز ہی بنتا ہے۔اس لئے عبادت مومن کی زندگی اور اس کی جان ہے اور مذہب کے فلسفے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنے رب سے سچا تعلق عبادت کے ذریعے قائم کرے۔تمہیں لازماً عبادتوں کو قائم کرنا پڑے گا اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، کمزوریاں بھی آتی چلی جاتی ہیں۔ایک دفعہ آپ زور