سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 462
462 $1998 آئے دن اللہ تعالیٰ اپنے تازہ نشان آپ کو دکھاتا ہے اور اسکے باوجود اگر خدانخواستہ آپکے قدم ڈگمگائیں تو بہت بڑی محرومی ہوگی (خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء بر موقع سالانہ اجتماع انصار الله جرمنی، بمقام باد کر وٹس ناخ ، جرمنی ) یہ آیات(البقرہ 208 تا 210) جن کی آج میں نے اس جمعہ میں تلاوت کی ہے جمعہ کے پیش نظر بھی اور مجلس انصار اللہ کے اجتماع کے پیش نظر بھی ان آیات کا انتخاب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضَاتِ اللہ جو اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اللہ کی رضا کی نگاہوں کی خاطر وَاللَّهُ رَءُوفٌ بالعِبَاد اور اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت فرمانے والا ہے۔يَآتِهَا الذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِى السّلْمِ كَافةً اے لوگو جوایمان لائے ہوفرمانبرداری کے دائرے میں تمام تر داخل ہو جاؤ۔وَلَا تَتبَعُوا خُطُواتِ الشيطن اور شیطان کے نقوش قدم کی پیروی نه كرو إنهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ یقیناوہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔فَاِنْ زَلَلْتُمْ اس کے باوجود اگر تمہارے قدم ڈگمگا جائیں اور تم پھسل جاؤ بعد اس کے کہ کھلے کھلے نشانات تم تک آچکے ہوں فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ تو خوب جان لو کہ اللہ بہت غالب اور بزرگی والا اور بہت حکمت والا ہے۔ان آیات میں جو طرز بیان ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کی مرضی کو چاہنے والے لمحہ لمحہ اس کا انتظار کرتے ہیں۔مرضات کا لفظ جمع ہے اسے محض رضا کہنا کافی نہیں۔اگر چہ رضا بھی جمع کے مضمون یا معنوں میں بعض دفعہ استعمال کی جاتی ہے مگر میرے نزدیک مرضات کا استعمال واضح طور پر یہ بتا رہا ہے کہ لمحہ لمحہ اس کی رضا کی نظروں کی خاطر اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں۔یہ بہت عظیم کلام ہے جو خاص طور پر انصار اللہ کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔انصار اللہ وہ خدا کے بندے ہیں جو عمر کے ایسے گروہ میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے پھر خدا ہی کے حضور پیشی ہے اس کے بعد اور کوئی مقام نہیں۔پس کتنے سانس باقی ہیں کہ انہیں غیر اللہ کی خاطر لو گے۔جتنے بھی سانس نصیب ہیں وہ سارے کے سارے اللہ کی رضا کی خاطر اس طرح پیش کر دینے چاہئیں کہ گویا اپنی جان بیچ ڈالی۔یہی وہ وقت ہے جب آپ توجہ کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحے لمحے پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا واقعہ آپ کی زندگی کا ہرلمحہ اللہ کی رحمت کا اور اس کی رضا کا انتظار کر رہا ہے کہ نہیں۔پشرِی نَفْسَہ کے بعد باقی اپنا تو کچھ بچتا نہیں جو کچھ ہے وہ گویا بیچ ڈالا اور سودا یہ ہے کہ جب