سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 457

457 مل گئی۔اس کی ساری زندگی کے خلاء پر ہو جائیں گے اور آئندہ اگر چند دن بھی زندہ رہیں گے تو پچھلی زندگی کی ساری بدیوں کو وہ دن دھو دیں گے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو ہمیں یہ خوشخبری دی ہے کہ اگر ایسے وقت میں بھی تمہیں توفیق مل جائے تو بہ کی کہ موت کا وقت قریب پہنچا ہو اور نیکی کی طرف بڑھتے ہوئے تم نیکیوں کے شہروں میں ابھی پہنچے نہیں ابھی گھسٹ گھسٹ کے جار ہے ہو تو خدا تعالیٰ تم سے یہ سلوک فرمائے گا کہ تمہاری پچھلی زندگی کی ساری سڑک جو بہت لمبی ہے اسے چھوٹا کر دے گا۔اور نیکی کی سڑک جس کی طرف تم بڑھ رہے تھے وہ یوں لگے گا جیسے تم اس منزل کے قریب پہنچ گئے ہو اور جس طرف سے آرہے تھے بدیوں کی زندگی بہت دور دکھائی دے گی جسے بہت پیچھے چھوڑ آئے ہو۔یہ مضمون ہے۔اس وقت وقت نہیں ہے پوری تفصیل حدیث پڑھ کر اس کا بیان کرنے کا لیکن خلاصہ کلام یہی ہے کہ جو خلاء میں اللہ انہیں نظر انداز فرما دیتا ہے اور تبدیلی کے بعد کے چند دن کو اس کے پچھلے تمام خلاؤں کو بھرنے کے لئے فیصلہ کر دیا ہے۔اس حال میں جان دیتا ہے گویا اس نے ساری عمر نیکیاں کرتے ہوئے ہی جان دی ہے۔آج مستقبل تبدیل کرنے کے فیصلہ کا دن ہے پس ماضی سے جہاں تک تعلق ہے اتنا ہی تعلق ہے لیکن ماضی سے یہ تعلق تب قائم ہو گا اگر مستقبل تبدیل ہوگا اس کے بغیر نہیں۔پس آج مستقبل تبدیل کرنے کا فیصلہ کر کے اٹھیں اور لازم کر لیں اپنے لئے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس کے لئے وضو کرنا ہوگا اور بعضوں کو غسل کرنا ہوگا۔وضو میں انسان کے کچھ اعضاء دھوئے جاتے ہیں اور انسان پاک ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہوتا ہے اور عبادت کے لئے لازم ہے کہ وضو کرے اور وہ جن کا سارا بدن کسی ایسے جذبے سے ملوث ہو گیا ہو جس کا دھونا ضروری ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فسل کرو۔تو عبادت کا فیصلہ محض اکیلا کافی نہیں ، آپ یہ بھی غور کریں کہ آپ کو غسل بھی کرنے ہیں آپ کو وضو بھی کرنے ہیں۔پس یہ سوچیں کہ پیچھے کون سی بدیاں ہیں جنہوں نے آپ کو خدا سے ہٹا رکھا ہے، دنیا کی طرف توجہ مبذول کرو رکھی ہے۔ان بدیوں پر نظر ڈالیں اور ایک غسل تو بہ کریں۔فیصلہ کریں کہ ہم نے اب ان بدیوں سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کر لینا ہے یہ فیصلہ ہے جو زندگی بدلا کرتا ہے۔اور عبادت کے فیصلے سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کیونکہ کوئی عبادت بھی اگر فسل ضروری ہو تو غسل کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔اگر وضوضروری ہو تو وضو کے بغیر نہیں ہوتی اور اس نکتہ کو سمجھنا بہت لازم ہے۔غسل سے ظاہری غسل بھی مراد ہے مگر فی الحقیقت بغیر اندرونی غسل مراد ہے۔وضو سے ظاہری وضو بھی مراد ہے مگر فی الحقیقت ایک اندرونی وضو مراد ہے۔تم اپنے روز مرہ کے اعضاء جو دکھائی دے رہے ہیں کم سے کم ان کو پاک صاف رکھو۔یہ مضمون ہے وضو کا مضمون اس کو بھی سمجھ لیجئے۔آپ جب باہر نکلتے ہیں تو لازم تو نہیں کہ آپ اندرونی حسوں کو جو دکھائی نہیں دے رہے جن پر