سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 451
451 لئے قرآن کریم نے ہمیں خوب اچھی طرح وضاحت کے ساتھ یاد کرایا۔میرے وہ بندے جو میری خاطر بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہیں اور ان سے محبت کا سلوک کرتے ہیں جب ان کا شکر یہ ادا کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شَكُورا کہ کیا کر رہے ہو ہم تو خدا کی خاطر تم سے پیار کر رہے تھے تم شکریے ادا کر کے ہمارے پیار کو کیوں میلا کرتے ہو۔ہمیں تم سے کسی خیر کی توقع نہیں۔یعنی توقع سے مراد یہ ہے کہ چاہتے نہیں ہیں کہ تم ہم سے کوئی سلوک کرو، ہماری نیکی محض اس کی خاطر تھی جس کی ہماری نیکی پر نظر ہے۔اسی سے ہم پیار چاہتے ہیں۔اسی کی رضا تلاش کرتے ہیں۔پس شکریے ادا کر کے ہماری نیکی کومیلا نہ کر دینا۔اور پھر قرآن کریم نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ یوں فرمایا لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ تو اس وجہ سے کسی پر احسان نہ کر کہ اس کے بدلے میں تجھے زیادہ دیا جائے گا۔پس نہ ان کی نیت میں کچھ زیادہ لینا شامل ہوتا ہے نہ ان کی نیت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ خدا کی رضا کی بجائے کسی اور خاطر ان پر جھکیں۔اور جب کلیتہ خدا کی خاطر جھکتے ہیں تو ان کا احسان ، ان کا شکریہ، ان کا تشکر بجائے دل کو ایک غذا دینے کے لئے اندر ایک قسم کا ایک زلزلہ طاری کر دیتا ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ہم تو بہت بالا قیمت چاہ رہے تھے۔ہم نے تو اپنے اللہ کی خاطر یہ کیا تھا۔ان کے شکریے کہیں ہمارے نفس کو موٹا نہ کر دیں۔تو واقعتا ان کے دل پر ایک زلزلے کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ گھبراتے ہیں اور لازم نہیں کہ وہ اس بات کو ظاہر کریں۔مگر قرآن کریم نے ان کی زبان سے ظاہر کیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس سوسائٹی میں ہمیشہ یہ نہیں ہوا کرتا تھا کہ ہر وہ شخص جس کا شکریہ ادا کیا جائے وہ آگے سے انہی الفاظ میں جواب دیا کرتا تھا۔بعض باتیں ایسی ہیں جوصحابہ کے دل میں وارد ہوتی تھیں اور اللہ کے پیار کی نظر ان پر پڑتی تھی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر روشن کر دیا کرتا تھا کہ اے میرے پاک غلام ، غلام کامل تو نے آگے بھی دیکھو کیسے کیسے پیارے غلام پیدا کر دیئے ہیں۔تیرے ہی رنگ میں رنگین ہیں۔ان کا شکریہ ادا کیا جائے تو ان کا دل آواز میں دیتا ہے کہ نہ نہ ہمارا شکر یہ ادانہ کر و و ہم تو محض خدا کی خاطر ایسا کرتے تھے۔پس اگر وہ خدا کی خاطر ہی یعنی ہر صاحب امر خدا کی خاطر اپنے ماتحتوں سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے تو ان کے شکریے کی نہ تو اسے توقع ہوتی ہے اور نہ اسے پرواہ ہوتی ہے۔جب توقع نہیں تو اس کے بر کس پہلو بھی ہے اور وہ ہے پر واہ بھی کوئی نہیں۔اس لئے کہ اگر جب ذاتی تعلق ان سے نہیں تھا جس کی خاطر ان پر رحمت کی جارہی تھی تو اللہ سے اگر وہ دور ہیں گے تو یہ شفقت کرنے والا اسی حد تک ان سے دور ہٹ جائے گا اور ان کی اس بارے میں کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ اس سے کیسا پیار کا تعلق رکھتے تھے۔بے انتہا محبت اور فدائیت کا اظہار کرنے والے بھی جب ایسی روش اختیار کرتے ہیں جس سے خدا ناراض ہو تو جن کو