سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 33
33۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آپ کا حافظ و ناصر ہو جس طرح آپ یہاں سے خوشیاں سمیٹ کر جار ہے ہیں اسی طرح خوشیوں کے ساتھ ہی گھر پہنچیں بلکہ ان خوشیوں کو ہر لحاظ سے برکتیں ملیں اور آپ کی خوشی سے واپسی کی خبریں مل کر ہمارے دل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کی حمد کے ساتھ اور اس کے نشکر کے ساتھ بھر جائیں۔" روزنامه الفضل ربوہ 9 جون 1983 ء) زعماء انصار اللہ نماز کی یادد بانی مساجد میں کرانے کی بجائے بے نمازیوں کے گھر گھر جائیں خطبہ جمعہ 19 نومبر 1982ء) "سوال یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ یا دیگر تنظیمیں ان لوگوں کو کس طرح سنبھالیں؟ جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم پہلی ذمہ داری بیرونی تنظیموں پر نہیں ڈالتا۔بلکہ پہلی ذمہ داری گھروں پر ڈالتا ہے اور یہ ایک بڑا ہی گہرا اور پر حکمت نکتہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر اپنے بچوں کی نماز کی حفاظت نہیں کریں گے تو بیرونی دنیا لاکھ کوشش کرلے وہ اس قسم کے نمازی پیدا نہیں کر سکتی جو گھر کی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔پس میں تمام گھروں کو یہ تلقین کرتا ہوں کہ وہ بڑی ہمت اور جد وجہد کے ساتھ نمازی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور ہمارے ماضی میں جو نیک مثالیں ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں ان کی پیروی کریں۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا نمونہ بہت سی مثالوں میں سے میں ایک مثال اپنے چھوٹے پھوپھا جان حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کی دیتا ہوں۔ان کو نماز سے، بلکہ نماز با جماعت سے ایسا عشق تھا کہ لوگ بعض دفعہ بیماری کے عذر کی وجہ سے مسجد نہ جانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، لیکن وہ بیماری کے باوجودمسجد جانے کے بہانے ڈھونڈا کرتے تھے۔دل کے مریض تھے اور ڈاکٹر نے بشدت منع کیا ہوا تھا کہ حرکت نہیں کرنی۔لیکن اس کے باوجود آپ ایک Wheel Chair میں بیٹھ کر ( پہیوں والی وہ کرسی جس پر بیٹھ کر مریض خود اپنے ہاتھوں سے اس کے پیئے گھماتا ہے ) رتن باغ لاہور میں جہاں نماز میں ہوتی تھیں ، (اس وقت مسجد نہیں تھی اس لئے رتن باغ کے صحن میں نماز میں ہوا کرتی تھیں ) با قاعدگی کے ساتھ وہاں پہنچا کرتے تھے۔جب مسجد گھر سے دور ہوگئی تو اپنے گھر کو مسجد بنالیا اور اردگرد کے لوگوں کو دعوت دی کہ تم پانچوں وقت نماز کے لئے میرے گھر آیا کرو۔اور مسجد