سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 446
446 صدارت کے اور بیوی کے جو تعلقات ہیں دوسری عورتوں سے وہ تعلقات اس کے فرائض منصبی پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔وہ یہ بتلاتی ہے فلاں جو عورت ہے نا اس کا خاوند تو بہت بے ہودہ ہے اور وہ ایسا ہے یا فلاں عورت جو ہے وہ بیچ میں سے آپ کو پسند نہیں کرتی۔فلاں ماحول میں یہ باتیں ہورہی ہیں۔وہ کچے کانوں والا خاوند ، وہ زنخوں کی طرح اپنے فیصلے پر چلنے کی بجائے اپنی بیوی کے تابع چلتا ہے جب کہ یہ دلداری اور اخلاق نہیں ہیں۔یہ بزدلی اور نامردی ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ نظام جماعت سے بے وفائی ہے۔کسی عورت کا کوئی کام نہیں ہے کہ جس منصب پر اس کا خاوند فائز ہوا ہے اس منصب سے تعلق میں کسی طرح بھی اس پر اثر انداز ہو۔سوائے مغفرت رحم اور شفقت کے۔یہ الگ مضمون ہے۔شفقت اور رحمت اور مغفرت کی استدعا کرنا یہ تو بالکل اور بات ہے مگر پولیٹیکل Issue بنا لینا اس کو کہ چونکہ میرا خاوند ایک مامور ہے کسی منصب پر اس لئے میں اس کو بتاؤں کہ فلاں اچھا ہے، فلاں برا ہے، فلاں یوں کرتا ہے ، فلاں یوں کرتا ہے۔یہ باتیں بالکل ناجائز ہیں، کسی قیمت پر قبول نہیں ہونی چاہئیں۔اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں نے جو اپنی بیوی سے تعلق رکھا ہمیشہ صرف ایک دفعہ ایک واقعہ ہوا کہ حضرت خلیفتہ اسیح نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا مجھ پر تو میری بیوی کے دل پر چوٹ لگی تو اس نے کچھ لفظ کہے۔اس دن میں نے ان کو کہہ دیا کہ آج کے بعد پھر یہ نہیں ہوگا۔کبھی ہوا تو تم سے کاٹا جاؤں گا اور خلیفہ وقت کا ہو کے رہوں گا۔چاہے وہ مجھے جوتیاں ماریں چاہے مجھے غلام رکھیں مجھے تمہاری محبت پسند نہیں ہے اس غلامی کے بدلے جس پر تمہارے الفاظ کا منفی اثر میں نے دیکھا ہے۔وہ دن اور موت کا دن ایک دفعہ بھی کبھی ساری عمر انہوں نے میرے فرائض کے تعلق میں کبھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔میں صدر خدام الاحمد یہ رہا، میں وقف جدید میں رہا، میں انصار اللہ میں بھی رہا اشارہ یا کنا یہ بھی انہوں نے مجھے کبھی کوئی بات نہیں کہی اور یہی حال ہمارے گھر کے ماحول کا تھا ہمارے نوکروں ، ہمارے بچوں کا۔عہد یدارلوگوں کی باتوں میں نہ آئیں بعض دفعہ لوگ ایسے بے وقوف ہیں اور ایسے کچی فطرت کے لوگ ہوتے ہیں، کچھی عادتوں کے کہ وہ اپنی عادتیں دوسرے کی طرف اس طرح منتقل کر دیتے ہیں۔ایک لکھنے والے نے مجھے لکھا کہ وہ جو ساری عمر آپ کے گھر نو کر رہی ہے وہ آپ کے اوپر چونکہ اثر انداز ہو جاتی ہے باتیں کر کے اس لئے آپ نے بعضوں کے متعلق اچھی رائے قائم کرلی ہے بعضوں کے متعلق نہیں۔اس بے چاری کا تو یہ حال ہے کہ اس کے داماد کو میں نے جماعت سے خارج کیا اور مجال نہیں کہ اشارہ بھی کبھی کوئی زبان پہ حرف لائی ہو۔وہ جانتی ہے اس کی تربیت میرے گھر میں ہوئی ہے اس کو پتہ ہے کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جماعتی معاملات میں اسے زبان کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔پس یہ میں اس لئے مثالیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ میں ان تجربوں