سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 443
443 کے حقوق کا خیال رکھے لیکن ماتحت اس قسم کی باتیں خود نہیں کہا کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے غلاموں کا اتنا خیال تھا کہ نماز سے بڑھ کر اور کون سا لمحہ ہے جو آپ کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہا ہومگر ایک بچے کے رونے کی آواز آپ کو نماز چھوٹی کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔اس خیال سے کہ اس کی دردناک آواز اس کی ماں کے دل پر کیا اثر کرتی ہوگی نماز جلدی کر دی۔لیکن کہیں ہم نے نہیں سنا کہ مائیں چیخ اٹھی ہوں کہ اے خدا کے رسول تجھے نمازوں کی فکر پڑی ہوئی ہے ہمارے بچے رور ہے ہیں اور تجھے پرواہ ہی کوئی نہیں۔یہ جہالت تھی اگر ہوتی۔لیکن یہ شان محمد مصطفیٰ ہے کہ ایسا موقع آنے کا سوال ہی نہیں پیدا بھی ہوا۔وہ شخص جو دوسروں سے بڑھ کر ان کی تکلیفوں کا خیال رکھتا ہو اس کے اوپر جائز حملہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم نے بے پرواہی کی ہے۔اور اس پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی کسی مسلمان کو یہ کہنے کا حق نہیں ملا کہ آپ نے ہم سے بے پرواہی کی اس کے نتیجے میں ہم سے یہ واقعہ ہو گیا۔کیونکہ آپ سب کی ضرورتوں پر اپنی ضرورتوں قربان کر دیا کرتے تھے اور اس حد تک کرتے تھے کہ تعجب ہوتا ہے کہ انسان میں اتنی طاقت کیسے ہے، ناممکن دکھائی دیتا ہے۔بعض دفعہ بعض چیزیں اچھی بھی لگتی ہیں لیکن انسان اس حد تک ان پر عمل کر ہی نہیں سکتا جب تک اس کے سارے نظام کے اندر ، اس کے اندرونی نظام کے اندر گہری تبدیلیاں واقع نہ ہوں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض کردار ایسے ہیں جن کو دیکھ کر ان کی عظمت کی وجہ سے سر سے ٹوپی گرتی ہے۔اتنے بلند ہیں۔مکارم الاخلاق پر آپ کو فائز کیا گیا ہے۔اس لئے یہ بھی درست ہے کہ ہم پر لازم ہے کہ ان کی پیروی کریں لیکن یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کیا تھا تم نے تو بالکل ویسا نہیں کر کے دکھایا۔اخلاق کے مضمون میں اور انصاف کے مضمون میں ایک فرق ہے۔انصاف کے تقاضے اگر امیر پورا نہیں کرے گا تو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کو پکڑوں لیکن قربانی کے وہ نمونے نہ دکھا سکے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائے ہیں تو صرف یہ نظر ہوگی کہ کوشش کرتا ہے کہ نہیں۔اسے نصیحت تو کی جاسکتی ہے کہ تم یہ بھی تو کر سکتے تھے۔اس طرح بھی دل جیت سکتے تھے۔یہ قربانی ، اس قربانی کا مظاہرہ کر سکتے تھے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے سرزنش کی جائے اور سختی کی جائے کیونکہ دوالگ الگ مضمون ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف فرائض کی دنیا تک نہیں رہے۔آپ کا قدم احسان کی طرف بلند ہوا ہے اور احسان سے ایتاء ذی القربیٰ میں جا کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ بلندیوں میں آپ کا وجود ہماری نظر کی رسائی سے بھی آگے نکل چکا ہے۔اس لئے ہر ایسی کوشش جو آپ کی سنت کے مطابق ہے وہ بھی تجزیہ کے لحاظ سے مختلف مراتب رکھتی ہے۔بعض جگہ وہ کوشش فرض میں داخل ہے۔بعض جگہ وہ کوشش نوافل میں داخل ہے۔لیکن نوافل کہہ کہ اسے نظر انداز کرنے والا بھی فرض کو نظر انداز کر رہا ہے۔اب بظاہر اس بات میں تضاد