سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 429
429 کرنے والے، ایک دوسرے کے غم سے تکلیف اٹھانے والے اور مجلس خدام الاحمدیہ اس پہلو سے مبارکباد کی مستحق ہے کہ اگر چہ ایک بہت بڑی اور فعال جماعت ہے جو جماعت احمد یہ جرمنی کے بدن کا سب سے بڑا حصہ ہے کیونکہ یہاں نو جوانوں کی تعداد دوسروں کے مقابل پر باقی دنیا کی جماعتوں سے زیادہ ہے، اس کے باوجود انہوں نے اپنے بجز اور انکساری کے مقام کو خوب سمجھا ہے اور کبھی اشارہ بھی کوئی ایسی بات ظاہر نہیں ہونے دی جس سے خودسری کی بو آتی ہو۔پس اس نہج پر آگے بڑھتے رہیں اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو اور بو اجتماعی برکتیں آپ کو نصیب ہوں۔برکتیں ہیں ہی وہی جو اجتماعیت سے حاصل ہوتی ہیں ورنہ انفرادیت تو دراصل موت کا پیغام ہے۔انفرادیت نظام کے بھرنے کو کہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ترکیب اجزاء ہی سے زندگی بنتی ہے اور جب ترکیب اجزا منتشر ہونے لگتی ہے تو اس کا نام موت ہے۔تو اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ کی ابدی زندگی عطا فرمائے ، روحانی لحاظ سے آپ کی صحت دن بدن بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے اور جماعت کا پہلے سے بڑھ کر ایک فعال حصہ بن سکیں۔" الفضل انٹر نیشنل 7 جولائی 1995ء) بعض عہدیداران سلامتی کے دائرہ میں ہیں اور خدا ان کی حفاظت کر رہا ہے خطبہ جمعہ 2 جون 1995ء) " جو اچھا ہے آپ کی نظر میں چاہے کمزور بھی ہوا گر تقو کی رکھتا ہے اور خدا کی سلامتی کی تعریف میں داخل ہوتا ہے۔تمام برکتیں ایسے عہدیداران سے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو سپرد کیا ہوا ہے کیونکہ انکے گرد خدا کی سلامتی کا دائرہ ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے ، ان کے گرد دخدا کی سلامتی کی ایک فصیل ہے جو ان کو ہر خطرے سے بچائے ہوئے ہے۔پس ایسے لوگ جب نظام جماعت میں کام کرتے ہیں تو ان کے کاموں میں بھی وہی سلامتی کی برکتیں ملتی ہیں۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ تو دنیا داری ہے جو آپ لوگ چندوں پر زور دیتے ہیں۔چندہ نہ دیا جائے یا کمزوری دکھائی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ووٹ نہیں دے سکتے۔یہ بھی دراصل ان کا تکبر ہے۔اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جب وہ چندہ دیتے ہیں تو اللہ کو اس کی کوئی حرص نہیں ہے۔دواصول پیش نظر رکھنے چاہیں۔اللہ اگر چاہتا تو اپنے نظام کو بھی بندے کی احتیاج سے اس طرح بھی کلیۂ پاک کر سکتا تھا۔کہ کسی سے چندہ کی ضرورت پیش نہ آئے جو جہاں سے چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اپنے نظام کی ضرورتیں پوری فرما سکتا ہے۔پھر چندے کا نظام کیوں ہے۔اس لئے کہ سپردگی کا امتحان ہے اور بغیر اس امتحان میں کامیاب ہوئے کوئی شخص سلامتی میں داخل نہیں ہو سکتا۔سپردگی میں جان بھی ہے اور مال بھی۔" الفضل انٹر نیشنل 14 جولائی 1995 ء)