سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 430

430 اللہ کا فضل بھی محنتوں کے تقاضے کرتا ہے۔کچھ نہ کچھ تو خدا اپنے بندوں سے ہاتھ ہلانے کی توقع رکھتا ہے عہد یداران کو اپنے ساتھ ٹیم بنا کر کام کرنے کی نصیحت ) (خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء) " ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس دور میں مسیح موعود علیہ السلام نے کام شروع کیا تھا اور جس دور میں مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ سے غیر معمولی نشانات پاتے ہوئے حیرت انگیز انقلابات کی بنیاد رکھی تھی۔پس میں سمجھتا ہوں کہ ہر صدی کے بعد یہ موسم آیا کریں گے اور ان معنوں میں دین کی تجدید ہوا کرے گی لیکن خلیفہ، خلیفہ ہی ہوگا مجدد نہیں ہوگا۔خدا تجدید کیا کرے گا۔کیونکہ وہ موسم جب خدا کے بڑے بڑے عظیم مقرب بندے پیدا ہوتے ہیں اور بڑے کام شروع کرتے ہیں ان موسموں میں بھی ایک برکت پڑتی ہے ان میں دہرائے جانے کی طاقت ہوتی ہے۔پس جس طرح تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یعنی برے معنوں میں دہرائے جانے کی طاقت ہوتی ہے۔اس طرح اللہ کے فضل سے میں سمجھتا ہوں کہ اچھی تاریخ بھی اپنے آپ کو دہراتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ دور اسی طرح برکتیں لے کے آ رہا ہے جس طرح پہلے لے کے آیا تھا۔اس لئے ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ بے وقوفی ہوگی اگر ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ ہمیں خدا بڑے بڑے کاموں کی توفیق بخش رہا ہے۔بخش تو رہا ہے لیکن کیوں بخش رہا ہے اس لئے کہ موسم وہ آگیا ہے جس موسم میں خدا کے فضلوں نے پھل لگانے ہی لگانے ہیں۔جب پھلوں کے موسم آتے ہیں تو جڑی بوٹیوں کو بھی پھل لگ جاتے ہیں، گھاس بھی پھل دار ہو جاتے ہیں کانٹے دار جھاڑیاں بھی پھل دار ہو جاتی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے یہ جو موسموں کو دہرایا ہے اس میں اگر چہ محض اللہ کا فضل ہے لیکن ساتھ ایک قانون یہ بھی رکھا ہے کہ تمہیں کچھ نہ کچھ تو ہاتھ ہلانا ہو گا کچھ تو کوشش کرنی ہوگی اگر تم کچھ نہیں کرو گے تو یہ موسم آ کے گزر جائے گا اپنے پھل اپنے ساتھ لے جائے گا پھر وہ ان کو جھاڑ دے گا یا بوسیدہ ہو جائیں گے یا مٹی میں مل جائیں گے اور تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔پس یہ درست ہے کہ ہماری محنت نہیں ہے محض اللہ کا فضل ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ اللہ کا فضل بھی محنتوں کے تقاضے کرتا ہے اور کچھ نہ کچھ تو ہاتھ ہلانے کی توقع خدا اپنے بندوں سے رکھتا ہے۔اگر وہ اتنا بھی نہیں کریں گے کہ اس کے فضلوں کو سمیٹ سکیں تو ان فضلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے اب پھل اتنے ہو چکے ہیں اور اتنے بڑھ رہے ہیں کہ سمیٹنے والے ہاتھوں کی بڑی ضرورت ہے۔۔