سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 425

425 دوسرے یہ کہ ان کا اصرار اس لئے تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ اپنے اجتماع کی حاضری بڑھانا چاہتے تھے۔اور یہ اطلاع دے بیٹھے تھے سب کو کہ ضرور جمعہ سے پہلے پہنچ جائیں کیونکہ خلیفہ ایسے افتتاح کریں گے۔یہ درست ہے کہ اگر کسی مجلس میں خلیفہ اسح شامل ہوں پہلے بھی یہی رہا ہے آئندہ بھی یہی رہے گا تو ظاہر بات ہے کہ اس اجتماع کی حاضری بڑھ جاتی ہے۔لیکن اسے حاضری کو بڑھانے کا ذریعہ بنا کر سالانہ رپورٹ کا معیار بڑھانا یہ جائز نہیں ہے۔خدام کی حاضری ہو، لجنات کی ہو یا انصار کی ہو وہ سال بھر کی کوششوں کا آئینہ دار ہونی چاہئے۔اگر تمام سال کوشش کر کے مجلس انصاراللہ میں ایک مستعدی پیدا کر دی جائے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کا ذوق شوق بڑھایا جائے اور اس طبعی جوش اور ولولے کے نتیجے میں لوگ کثرت سے اجتماعات میں شامل ہوں تو اچھی بابرکت بات ہے اور قابل تحسین ہے۔مگر یہ نہ ہو تو خلیفہ وقت کو ذریعہ بنا کر اس دن کی حاضری بڑھانا یہ کوئی نیک ، اچھی بات نہیں ہے۔اس لئے وہ سمجھیں یا نہ سمجھیں یہ بات میں اشارہ ان کی دل آزاری کئے بغیر سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ بات پہنچی نہیں۔اس لئے اب میں ساری دنیا کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ اگر کوئی شخص جو کسی بڑے علاقے سے تعلق رکھتا ہو کہ اس کی خاطر لوگ آئیں اس کے آنے پر لوگوں کا آنا ایک طبعی بات ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔مگر کسی ایک دن اس کو بہانہ بنا کر اپنی حاضری بڑھا لینا یہ اچھی کارکردگی کی علامت نہیں ہے۔اس لئے انصار ہوں یا لجنات ہوں یا خدام ہوں ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ سالانہ تربیت کے معیار کو بڑھا ئیں یہاں تک کہ کسی ایک شخص کی خاطر نہیں بلکہ روزمرہ کی تربیت کے نتیجے میں، دینی اغراض کی خاطر، تمام ذیلی تنظیموں کے ممبر خدا کو راضی کرنے کے لئے دینی اغراض کی خاطر ا کٹھے ہوا کریں۔یہ جو خلیفہ وقت کے ساتھ تعلق ہے یہ بھی ایک دینی غرض ہے مگر ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔روز مرہ کی تربیت کے نتیجے میں جو دین سے وابستگی پیدا ہوتی ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس بات کی محتاج نہیں رہتی کہ کون آ رہا ہے اور کون نہیں آ رہا۔اس وقت تو حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ہم تو بن بلائے بھی جانے کی کوشش کریں گے اور واقعہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک مصرعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ : ان پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے بلانے کا محتاج نہ رہے انسان۔جب دینی مقصد کا کوئی اجتماع ہو تو اس میں ذوق وشوق سے لوگوں کا حاضر ہونا ایک دینی تقاضا ہے۔پس یہ وجہ ہے میں وضاحت کر رہا ہوں۔انہوں نے جو وعدہ کیا تھا انصار سے، ان کی طرف سے عہد شکنی کوئی نہیں ہوئی ان کو اس بات پر ملزم نہ کیا جائے۔اپنی طرف سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخر وقت تک جو ممکن تھا انہوں نے کوشش کر دیکھی مگر یہ میری مجبوری تھی جس کی وجہ سے وہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔