سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 426
426 مجلس انصار اللہ یو۔کے میں عمومی طور پر مجھے توقع ہے کہ بیداری پیدا ہوئی ہے۔اور اس بیداری کا ایک اظہار اس اجتماع میں ایک مجلس سوال و جواب کو داخل کر کے جس میں غیر از جماعت اور غیر مسلموں کو بلایا جارہا ہے یہ اس نیک طریق پر کیا جارہا ہے اس توقع پر کہ انشاء اللہ اس کے نتیجے میں بیعتیں بھی ہوں گی۔اور اس معاملے میں اللہ تعالیٰ جماعت جرمنی کو جزا دے سارے یورپ کے لئے وہ نمونہ بنی ہوئی ہے۔چنانچہ صدر صاحب انصار اللہ نے جب اس خصوصی اجلاس کو عام دستور سے ہٹ کر، جو یہاں کا دستور تھا ، انصار اللہ کے اس اجتماع میں شامل کرنے کی درخواست کی تو خود ہی یہ کہا کہ جرمنی کو دیکھ کر ہمارے دل میں بھی جوش پیدا ہوا ہے کہ ہم بھی ایسے اجتماعات اپنے سالانہ اجتماع کا ایک مستقل جزو بنا لیں۔تو اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزاء دے اور زیادہ سے زیادہ غیر مسلموں کو خصوصیت سے اور غیر احمدی مہمانوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی توفیق بخشے۔انصار اللہ کی ذمہ داریاں باقی تنظیموں سے زیادہ ہیں انصار اللہ کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں باقی ساری مجالس سے زیادہ ہیں۔اس کے متعلق میں تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ آج تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز کے اعلان کا دن ہے۔صرف دو تین نکتے جو پہلے بھی عرض کر چکا ہوں وہ آپ کو یاد دلاتا ہوں۔انصار کی عمر وہ عمر ہے جس کے بعد کسی اور مجلس میں شامل نہیں ہونا بلکہ دوسری دنیا کی طرف رخصت ہونا ہے۔اس لئے جو دینی کاموں میں کمزوریاں رہ گئی ہیں ان کو دور کرنا اور ان کا ازالہ کرنا جس حد تک ممکن ہے انصار کو کرنا چاہئے کیونکہ پھر اس کے بعد دوبارہ یہاں واپس نہیں آنا۔اور اس پہلو سے خدام اور دوسرے ذیلی شعبوں سے مجلس انصار اللہ کو زیادہ مستعد ہونا چاہئے اور زیادہ ان کے دل پر بوجھ پڑنا چاہئے۔انبیاء کا سب کا یہی حال رہا ہے۔جوں جوں عمر بڑھتی ہے اور بڑھاپے کی عمر میں وہ داخل ہوتے ہیں کام کی ذمہ داریاں ان پر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور پہلے سے زیادہ محنت اٹھاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق بھی یہی روایتیں ہیں کہ آخری ایام میں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی شخص غروب ہوتے ہوئے سورج پر نظر کرتے ہوئے جب کہ ابھی منزل دور ہو بہت تیزی سے قدم اٹھاتا ہے اور بار بار توجہ کرتا ہے کہ کہیں دن غروب نہ ہو جائے۔اس کیفیت سے آپ نے آخری عمر میں کاموں کے بوجھ زیادہ بڑھالئے اور زیادہ اس احساس کے ساتھ کہ جو کچھ بھی اب مجھ سے ممکن ہے میں کرلوں ، ان کی ذمہ داریاں ادا فرمائیں۔پس انصار کا ایک یہ پہلو ہے جو پیش نظر رہنا چاہئے۔انصار اللہ کی ذمہ داریوں میں نیلی تمام نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے دوسرا یہ کہ انصار کی ذمہ داریوں میں طبعی طور پر ان سے پہلی تمام نسلوں کی ذمہ داریاں داخل ہیں۔