سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 424

424 نے محمد رسول اللہ سے سیکھے اور ویسے بنانے کی کوشش کی تو آپ تو کیا آپ کے غلاموں کا بھی خدا خریدار بن جائے گا، تمام دنیا پر آپ کے دل حکومت کریں گے یعنی محمد مصطفیٰ کی حکومت جاری ہوگی۔اور یہی ایک ذریعہ ہے اپنے معاشرے کو درست کرنے کا۔اپنے شہروں کی گلیوں کو۔اپنے شہروں کو ، اپنے علاقوں اور اپنے ملکوں کو۔تمام دنیا کا حسن آج اس ایک بات سے وابستہ ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے غلام محمد رسول اللہ کے بچے اور حقیقی غلام بن جائیں اور آپ کے احسان کا جادوسب دنیا کے دلوں پر چلنے لگے۔خدا کرے کہ الفضل انٹر نیشنل 10 جون 1994 ء) ایسا ہی ہو۔آمین۔" ذیلی تنظیموں کے افراد اپنے اپنے اجتماعات میں خدا کو راضی کرنے کے لئے دینی اغراض کی خاطر ا کٹھے ہوا کریں (خطبہ جمعہ 4 نومبر 1994ء) " میں آج مجلس انصاراللہ یو۔کے کے تین روزہ سالانہ اجتماع سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصاراللہ یو کے کا تین روزہ سالانہ اجتماع اسلام آبادیوں کے سے شروع ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ آج مجلس انصاراللہ یو کے کا تین روزہ سالانہ اجتماع اسلام آباد میں ہو رہا ہے اور ان کی طرف سے یعنی صدر صاحب انصار اللہ کی طرف سے گذشتہ ہفتہ دس دن سے مسلسل مجھ پر دباؤ رہا ہے کہ میں اسلام آباد جا کر وہ افتتاح کروں اور مسلسل میں اس کا انکار کرتا رہا ہوں۔لیکن وہ بھی ماشاء اللہ دھت کے پکے ہیں۔اچھے دعا گو ثابت ہوں گے۔مگر میں نے واضح طور پر عرض کیا بار بار کہ یہ نہیں ہو گا پھر بھی ماشاء اللہ انہوں نے اپنی اس نیک کوشش کو ترک نہیں کیا اور یہ جو انہوں نے ضد لگائی تھی دراصل وہی وجہ ہے جو میں خصوصیت سے ان کی بات کا انکار کرتارہا ہوں۔میرا سابقہ دستور ہے جو سب مجالس کے علم میں ہے کہ یو۔کے میں جتنے بھی ذیلی مجالس کے اجتماعات ہوتے ہیں انکا افتتاح میں امیر صاحب یو کے سے کرواتا ہوں اور اگر وہ نہ ہوں تو ہمارے امام صاحب جو نائب امیر بھی ہیں۔اور دوسری تقریبات میں حصہ لیتا ہوں۔تو اول تو میں کسی وجہ سے اس دستور کو بدلنا نہیں چاہتا تھا ورنہ ہر مجلس کی طرف سے مجھ پر یہی دباؤ ہوگا اور یہی مطالبہ ہوگا کہ انصار اللہ کے اجتماع میں آپ نے اس دستور کو بدلا ہے تو ہمارے معاملہ میں کیوں یہ سوتیلے پن کا سلوک ہے۔ایک تو یہ وجہ تھی۔