سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 419
419 کرتی تھیں کہ اب ہم دوبارہ آئیں گی تو پرات الٹ کے پھر تمہیں باقی گالیاں دیں گی۔ہمارے ملک خدا بخش صاحب جو ملک عطاء الرحمن صاحب کے والد ہیں ان کے ہاں میں گیا تھا ایک دفعہ بچپن میں ، جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو ان کے پڑوس میں یہ قصے چل رہے تھے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے تو میں حیران رہ گیا میں نے کہا یہ کیا ہو گیا انہوں نے کہا یہ تو روز مرہ کی بات ہے یہ تو کوئی حیرانی کی بات ہی نہیں سارا محلہ اس طرح چل رہا ہے، تو یہ بدیاں بھی ہیں۔حسن سلوک کرنے کا جو مادہ ہے اگر وہ نہ رہے تو بدی میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے۔بے تعلقی بے تعلقی میں ہی رہتی ہے اس لئے نہ حسن نہ قبیح۔نہ خوبی نہ برائی۔مگر وہ تو میں جو اپنی خوبیوں کی حفاظت نہیں کرتیں وہ خوبیاں پھر بدیوں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔پس اگر آپ نے حسن سلوک نہ کیا تو اس حدیث کی نصیحت کے یا انذار کے نیچے آپ آئیں گے۔فرمایا وہ مومن نہیں خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔پوچھا گیا کون؟ تو فرمایا وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اچانک حملوں سے محفوظ نہ ہو۔حضرت انس سے روایت ہے صحیح بخاری کتاب الایمان میں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک حقیقی مومن نہیں بن سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔احادیث میں بیان اقرباء کے حقوق جس طرح قرآن کریم کا مضمون اقرباء سے شروع ہو کر پھر پھیلتا چلا جا رہا ہے احادیث میں بھی اقرباء کے ذکر بڑی عمدگی اور گہرائی اور تفصیل کے ساتھ ہیں اور پھر درجہ بدرجہ تعلقات کے پھیلاؤ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نصیحتوں کا فیض بھی پھیلتا چلا جاتا ہے۔فرمایا کوئی مومن حقیقی مومن نہیں بن سکتا۔اس مرتبہ اس کی یہ تشریح فرمائی جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔یہ ایک ایسی چھوٹی سی نصیحت ہے جس سے بڑی نصیحت ممکن ہی نہیں ہے۔انسانی تعلقات کو درست کرنے کے لئے اس چھوٹی سی بات میں تمام انسانی مصالح بیان فرما دئیے گئے ہیں ایک طرز فکر کا ذکر ہے اگر تم اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو تو اس کی عزتیں تم سے محفوظ ہوگئیں اس کے مال تم سے محفوظ ہو گئے اس کے تمام حقوق تمہارے ہاتھوں میں اسی طرح محفوظ ہوں گے جس طرح اس کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔اتنی عظیم الشان تعلیم ہے کہ تمام دنیا کے انسانی روابط میں خواہ وہ انفرادی سطح پر ہوں یا ملکی اور تمدنی سطح پر ہوں تمام دنیا کے مسائل کا حل اس اصلاحی مشورے میں داخل ہے کہ تم دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اب تمام دنیا میں جوملکی سیاست چل رہی ہے اس میں کہاں اس بات کو داخل ہونے کی گنجائش ہے وہ اپنے لئے کچھ اور پسند کرتے ہیں دوسرے کے لئے کچھ اور پسند کرتے ہیں۔