سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 418

418 پکارہی ہے تو تھوڑ اسا اور پانی ڈال لے تاکہ ہمسائے کو بھی کچھ پہنچا سکے۔اب یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر آپ پڑوسی کے معاملات میں ویسے دخل دیں اور کھڑے ہو کے اس سے باتیں کرنا شروع کریں تو کم سے کم انگریز مزاج تو اس کے خلاف بھڑ کے گا اور بالکل پسند نہیں کرتا کہ آپ جاتے اس کو چھیڑیں، اسے سلام دعا کریں اور کھڑے ہو کر بعض دفعہ باتیں کرنے کی کوشش کریں یا پوچھنے لگ جائیں تم کون ہو لیکن اگر اسے کوئی تحفہ پہنچا دیں کہ آج ہمارے گھر میں یہ پکا ہے اور ہم نے چاہا کہ تمہیں بھی شریک کریں تو ہر گز اس کے خلاف کوئی بدرد عمل نہیں ہوگا۔بلکہ غیر معمولی طور پر ایسے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔پڑوسی سے تعلقات قائم کرنے کی مثال مجھے جرمنی سے ایک خاتون نے خط لکھا جن کے ہمسایوں سے بہت اچھے قریبی مراسم مضبوط ہونے لگ گئے ، قرار پا گئے اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایک موقع پر کوئی چیز انہوں نے پکائی تو اپنے ہمسائے کو بھیجوا دی یہ کہہ کر کہ یہ ہمارا پاکستانی طرز کا کھانا ہے۔میں نے سوچا کہ آپ کو بھی کھلائیں۔اتنا متاثر ہوا۔وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسے واقعات بھی اس دنیا میں ہو سکتے ہیں۔یہ خود گھر پر چل کر شکر یہ ادا کرنے کے لئے آیا اور پھر تبلیغ کی ساری باتیں سنیں ، دلچسپی لی ، کتابیں مانگیں اور اب پورا تبلیغ کا سلسلہ اس کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا گھر بھی اعلیٰ خلق سے جیتے جائیں گے۔دنیا بھی اعلیٰ خلق سے ہی جیتی ہے جائے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریق ہمیں سمجھائے ہیں وہ ضرور دلوں کو فتح کرنے والے ہیں۔پھر حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے۔آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کون مومن نہیں ہے۔آپ نے فرمایا وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اس کے اچانک واروں سے محفوظ نہ ہو۔اب یہ جو بات ہے یہ آج کل ایک بیماری بن گئی ہے کہ پڑوسیوں سے جھگڑے اور یہ بیماری مغرب میں زیادہ نہیں پائی جاتی، مشرق میں زیادہ پائی جاتی ہے اور یہاں بھی جو پڑوسیوں کے جھگڑے ہیں الا ما شاء اللہ کبھی کبھی دوسرے پڑوسیوں سے بھی جھگڑے چلتے ہیں مگر اس کی وجہ کچھ اور تعصبات ہوتے ہیں روز مرہ کی زندگی میں انگلستان میں یا جرمنی میں پڑوسی پڑوسی سے جھگڑتا نہیں کوئی واسطہ ہی نہیں رکھتا اس کی اپنی دنیا ہے اس کی اپنی دنیا ہے۔جہاں جھگڑے چلیں گے وہاں عام طور پر ریس ازم یا اس قسم کے بعض دوسرے عناصر ہیں جو عمل دخل دکھاتے ہیں ورنہ عام طور پر جھگڑے نہیں چلتے۔ہمارے ملک میں جہاں پڑوسی سے حسن سلوک کا رجحان بھی پایا جاتا ہے وہاں جھگڑنے کا بھی رجحان پایا جاتا ہے اور بعض دفعہ پڑوسیوں میں بڑی سخت تو تو ، میں میں ہوتی ہے۔لاہور میں تو ایک دفعہ ایک محلے میں میں گیا تھا بچپن میں ، تو وہاں پتہ چلا کہ پڑوسیوں کے جھگڑے کئی کئی دن بعض دفعہ مہینوں چلتے ہیں اور وہ گالیاں دے دے کر ایک دوسرے کو پھر پرات الٹ کے عورتیں چلی جایا۔