سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 406
406 غالب کر لیتے ہیں کہ بعض دفعہ ان کے خطوں میں کسی اپنی ذاتی کسی دوست کی ضرورت کا بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔ہر وقت یہ فکر ہے کہ دین کی یہ ضرورت پوری ہو، دین کی وہ ضرورت پوری ہو، جماعت کی تربیت میں کمزوری ہے، اللہ تعالیٰ توفیق بخشے کہ ہم اس کمزوری کو دور کرسکیں۔تبلیغ میں یہ کمزوری ہے اور دیگر مسائل جماعت کے یہ ہیں پس ایسے لوگوں کے خط ان مشکلات کے ذکر سے بھر پور ہوتے ہیں جو ان کی ذات سے تعلق نہیں رکھتیں۔ایسے لوگ کیا گھانا کھانے والے ہیں؟ کیا ان کا سودا نقصان کا سودا ہے؟ جن کو اپنی ہوش نہیں باقی ہر چیز کی گویا ہوش ہے۔اپنے بھائیوں کی ہے، دین کے کاموں کی ہے، دین پر پڑنے والی مصیبتوں کی ہے، گویا اپنی ذات پر، اپنے عزیزوں پر مصیبت ہی کوئی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ گھانا کھانے والے نہیں ہیں۔کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی دور کرتا ہے بلکہ جوشخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے وہاں سے بات شروع فرمائی ہے، اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔تو یہ امر واقعہ ہے اور میں اپنے ذاتی وسیع تجربے سے آپ کو بتاتا ہوں یعنی جماعت احمدیہ کے ساتھ جو میرا وسیع تعلق ہے اور ساری دنیا کے جماعت کے حالات پر کسی نہ کسی رنگ میں نظر رکھتا ہوں کہ ایسے لوگ جو اپنے بھائی کی ضرورت میں مگن رہتے ہیں ، ان کا خیال رکھتے ہیں، جو جماعتی ضروریات کی خاطر اپنی ضروریات کو بھلا بیٹھتے ہیں اللہ تعالیٰ کبھی ان کو بھلاتا نہیں۔ان کی سب ضروریات کا خود خیال رکھتا ہے اور بسا اوقات دعا کے لئے ہاتھ اٹھنے سے پہلے وہ ان کی ضروریات کو دعا سمجھ کر قبول فرمالیتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر دیتا ہے۔پس بہت ہی محفوظ زندگی ہے ایسے مومن کی جس کا نقشہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس نصیحت میں کھینچا ہے اس سے بہتر اور کیا تصور ہو سکتا ہے کہ آپ خدا کے بندوں کی ضرورتوں میں مگن رہیں۔آپ کی طاقت تو کم ہے آپ تو وہ سب ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے لیکن آپ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے آپ کی پشت پر وہ دنیا کا خالق و مالک کھڑا ہو جائے جس کی طاقت میں ہر چیز ہے اس سے اچھا بھی کوئی سودا ہوسکتا ہے؟ کتنا عمدہ، کیسا پیارا، کیسا نفع بخش سودا ہے کہ اپنی ادنی طاقتوں کو آپ نے خدا کے بندوں کے لئے وقف کر دیا یا خدا کی جماعت کی ضروریات کے لئے وقف کر دیا اور اس کی طاقتیں حاصل کر لیں جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔پس بہت ہی عظیم الشان نصیحت ہے یہ۔اس پر کان دھر میں اور اس سے فائدہ اٹھا ئیں کیونکہ یہ سو فیصدی سچی بات ہے آپ کی ساری تکلیفوں کے حل ہونے کا راز اس میں پوشیدہ ہے۔فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کر دیتا ہے۔جو شخص کسی کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن پردہ پوشی کرے گا۔