سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 401

401 کی نوک پر آ جائے اور بغیر تکلیف کے وہ باہر نکل آئے۔اور ذراسی بے احتیاطی ہو تو انسان تڑپ اٹھتا ہے۔پس مومن کو جب یہ ذاتی تجربہ حاصل ہو گیا اور تمام مسلمانوں کی جماعت کی مثال ایک مومن کی ذات سے دے دی گئی تو اس کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ دوسرے مومن پر انسان ظلم کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔جیسے اپنے بدن کو انسان تکلیف نہیں پہنچا سکتا اسی طرح اپنے بھائی کو اگر وہ تکلیف پہنچائے تو وہ سچا مومن نہیں ہوسکتا۔وہ اس مثال کی حدوں سے باہر جاپڑے گا جو مثال حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مومنوں کی جماعت یعنی اپنے بچے حقیقی غلاموں کی جماعت کے متعلق دی ہے۔پس یا درکھیں اول تو یہ توقع ہے، یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو آپ سے توقع ہے کہ آپ اپنے کسی بھائی کو کسی نوع کا دکھ نہیں پہنچا ئیں گے۔پہنچائیں گے“ کی نصیحت میں ایک اور بات ہے، آپ کو یہ توقع ہے کہ ” پہنچا سکتے نہیں ہیں کیونکہ اس معاملے میں آپ بے اختیار ہیں۔ہر بھائی آپ کے بدن کا جزو بن چکا ہے جو تکلیف آپ اس کو پہنچائیں گے وہ آپ کو محسوس ہوگی اور جو تکلیف مجبورا پہنچانی پڑے وہ ضرور محسوس ہوتی ہے۔مثلا بعض دفعہ انگلی کاٹنی پڑتی ہے اور میں ذاتی تجربے سے اس بات کا گواہ ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ قول سو فیصد بعینہ سچا ہے کیونکہ بعض دفعہ جب ایسی کاروائی کرنی پڑے کہ ایک شخص کو اس کے مسلسل ظلم کی وجہ سے جماعت سے کاٹ کر الگ پھینکنا پڑے تو اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے جیسے اپنے بدن کے کسی عضو کو کاٹ کر باہر پھینکنا پڑے۔پس سیہ وہ مثال ہے جو آپ کے اوپر کامل طور پر صادق آنی چاہئے اور پہلی توقع یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی پر ظلم کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ تو آپ کا جزو بدن بن چکا ہے۔دوسری یہ کہ اگر وہ تکلیف میں مبتلا ہو تو اس سے بے نیاز ہو کر آرام نہیں کر سکتے۔جہاں جو تکلیف آپ کے سامنے آئے اور دور کرنے کے لحاظ سے آپ کی حد میں ہو، آپ کی پہنچ میں ہو، آپ ضرور کوشش کریں۔اور اس پہلو سے بھی میں بہت مطمئن ہوں۔اگر چہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جماعت میں جو ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کے حق بھی چھینتے ہیں ،اگر چہ ایسے لوگ بھی ہیں جو تکلیف دور کرنے کی بجائے تکلیف پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ان کے شر سے جماعت محفوظ نہیں رہتی مگر ایسے لوگ وہ ہیں جن کو رفتہ رفتہ تقدیر الہی نتھار کر ایک طرف کرتی چلی جارہی ہے اور رفتہ رفتہ وہ ننگے ہو کر جب سامنے آتے ہیں تو وہ اپریشن کرنا پڑتا ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔مگر اس اپریشن کی دو قسمیں ہیں یہ میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دوں۔ایک قسم یہ ہے کہ اپنا جزو بدن کانا جارہا ہے، ایک قسم یہ ہے کہ غیر آپ کے بدن میں داخل ہے اور اس حد تک غیر اور تکلیف دہ ہے کہ آپ اسے نکال باہر پھینکنے میں راحت محسوس کرتے ہیں، دکھ محسوس نہیں کرتے۔