سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 396

396 حضرت مسیح موعود کی بعثت کے چار مقاصد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا اور یہ آپ کا ارشاد الحکم جلد نمبر 6 نمبر 29 صفحہ 5۔17 /اگست 1902 ء سے لیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا: ”ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور گزرے یعنی کھیتی کی طرح ہوگی اور وہ مقاصد اور مطالب اس پیج کی طرح ہیں جو زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے ابھی بہت دور ہیں۔وہ حاصل نہیں ہو سکتے جب تک وہ خصوصیت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشاء ہے۔توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو۔تبتل الی اللہ ایک خاص رنگ کا ہو۔ذکر الہی میں ایک خاص رنگ ہو اور حقوق اخوان میں خاص رنگ ہو۔“ اس میں وہ چار مقاصد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں جن کے حصول کے بغیر جماعت احمد یہ اپنی بعثت کی غرض کو پورا نہیں کر سکتی اور ان میں سے پہلے تین مقاصد کو ایک ایک احمدیہ کر کے میں نے اپنے خطبات کا موضوع بنایا۔سب سے پہلے ایک سلسلہ توحید باری تعالیٰ“ کے موضوع پر خطبات کا شروع ہوا۔پھر اس کے بعد اسی ترتیب سے تبتل الی اللہ کی باری آئی۔اور تبتل الی اللہ کے موضوع پر بھی ایک سلسلہ خطبات کا جاری رہا۔پھر آج سے پہلے تیسرے نمبر پر ذکر الہی میں ایک خاص رنگ ہو کے موضوع پر میں نے جماعت کو مخاطب کیا اور جس حد تک بن پڑا بڑی تفصیل سے اور گہرائی میں جا کر ذکر الہی کے موضوع کو جماعت پر خوب روشن کیا۔حقوق اخوان آج اب آخری سلسلے کی باری آئی ہے یعنی حقوق اخوان ، میں بھی خاص رنگ ہو۔یعنی یہ تمام باتیں جب پوری ہو جائیں۔توحید کا خالص اقرار ہی نہیں بلکہ تو حید کو اپنے رگ و پے میں سمو دیا جائے اور ہماری زندگی میں توحید سرایت کر جائے پھر اللہ کی طرف تبتل ہو اور دنیا سے انقطاع کر کے خالصہ خدائے واحد کی طرف رجوع ہو پھر اس کے نتیجے میں ذکر الہی میں انسان بہت ترقی کرے۔جب یہ تینوں منازل طے کر لے تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کے حقوق ادا کر سکے۔اس کے بغیر بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کا کسی انسان سے کوئی تصور نہیں باندھا جاسکتا، کوئی امید وابستہ نہیں کی جاسکتی۔پس اب میں حقوق اخوان سے متعلق آپ کے سامنے بعض بنیادی امور رکھتا ہوں لیکن اس سلسلے میں جو ذہنی ترتیب میں نے دی ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو آپس میں ایک دوسرے